سفید زہر کے سوداگر

محمد ندیم بھٹی 
دنیا میں دودھ کو ہمیشہ سے زندگی اور صحت کی علامت سمجھا جاتا ھے، مگر جب یہی دودھ انسانی جسم کو طاقت دینے کے بجائے بیماریوں اور موت کی وجہ بننے لگے تو یہ المیہ کسی بڑے سانحہ سے کم نہیں ھوتا۔ پنجاب فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن  صحت برائے  عوام کے تحت حالیہ دنوں میں غیر معمولی اور جرات مندانہ پنجاب بھر کے شہروں  میں آپریشنز کر کے دس لاکھ لٹر سے زائد ملاوٹ شدہ دودھ برآمد کیا اور موقع پر ہی ضائع کر دیا۔ یہ قدم اس بات کا واضح ثبوت ھے کہ حکومت نے عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ھے۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید  کی قیادت میں ھونے والے اس کریک ڈاؤن نے پورے صوبے میں ملاوٹ مافیا کے خلاف ایک خوف کی لہر دوڑا دی ھے۔یہ حقیقت سب پر عیاں ہو گئی ھے کہ دودھ میں ملاوٹ کرنے والے دراصل دولت کے پجاری ہیں جو انسانی جانوں کی پرواہ کئے بغیر زہر کو غذا کے طور پر بیچتے رھے ہیں۔ بچوں کے لئے دودھ ہمیشہ مکمل خوراک مانا جاتا ھے مگر جب اس میں یوریا، ڈیٹرجنٹ، کیمیکل، گندا پانی نقلی غذائیت  کے لئے ویجیٹیبل گھی شامل ھو تو یہ دودھ جسم کو توانائی دینے کے بجائے امراض کی جڑ بن جاتا ھے۔ فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے اپنی مسلسل کارروائیوں سے عوام کو بڑے خطرے سے بچایا اور یہ پیغام دیا کہ اب پنجاب میں کسی کو یہ جرات نہیں ھوگی کہ وہ دودھ جیسے مقدس مشروب کو زہر آلود کرے۔اور بے شک  یہ عمل  قابل تحسین  ھے۔
اس کریک ڈاؤن کے دوران فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے  پنجاب  بھر کے مافیا  کے خلاف  اعلان جنگ کرتے ھوئے 346 ایف آئی آر درج کیں، سینکڑوں ملزمان کو گرفتار کیا اور ان پر کروڑوں  روپے  کے بھاری جرمانے عائد کئے۔ ان اقدامات کے بعد  دودھ  میں  ملاوٹ کرنے  والے مافیا میں دہشت کی فضا قائم ھوئی، مگر افسوس ناک پہلو یہ ھے کہ عدالتوں میں ایسے مجرمان کو اکثر غیر مناسب سزائیں دی جاتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دراصل انسانیت کے قاتل ہیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم سے یہی امید کی جا سکتی ھے کہ وہ ایسے مقدمات کا سختی سے نوٹس لیں اور ان قاتلوں کو سخت سے سخت سزائیں دلوائیں تاکہ معاشرے کو ہمیشہ کے لئے اس ناسور سے نجات مل سکے۔ صرف جرمانے یا وقتی قید سے بات نہیں بنے گی بلکہ ان پر ایسا قانونی شکنجہ کسنا ہوگا جس کی مثال   محمد عاصم  جاوید  ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی نے قائم کی ھے کہ آئندہ کوئی اس جرم کا سوچ بھی نہ سکے۔
ملاوٹ مافیا کی طاقت اور بدمعاشی کا اندازہ اس وقت ھوا جب انہوں نے ڈائریکٹر جنرل فوڈ کے دفتر پر ھی خطرناک حملہ کیا۔ یہ حملہ اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ گروہ کس قدر بے رحم اور مضبوط ھے اور یہ کہ وہ قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھنے کے عادی ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ھے کہ محکمہ فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے  ڈائریکٹر جنرل محمد عاصم جاوید اورایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آپریشنز آصف ڈوگر اور دیگر  افسران و اہلکار اس حملے سے خوفزدہ نہیں ھوئے بلکہ مزید حوصلے اور ہمت کے ساتھ اپنے مشن پر ڈٹے رھے۔ یہی وہ جذبہ ھے جسے خراج تحسین پیش کرنا ہر ذمہ دار  پاکستانی شہری کا فرض بنتا ھے۔
جب یہ مافیا گرفتار ھوا تو انہوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج بھی کیا۔ سڑکیں بند کرنے اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئی تاکہ عوامی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔ مگر ایس پی ڈاکٹر محمد عمر کی قیادت میں پولیس نے موقع پر پہنچ کر نہ صرف حالات کو قابو میں کیا بلکہ پورے ماحول کو پرامن بنا دیا۔ قریبی تھانوں کی پولیس کو بھی طلب کیا گیا اور ایک ممکنہ خطرناک صورتحال کو نہایت حکمت اور جرات کے ساتھ ختم کر دیا گیا۔ اگر پولیس اس وقت غفلت کا مظاہرہ کرتی تو شاید یہ احتجاج سنگین تصادم میں بدل جاتا۔ اس موقع پر پولیس کے کردار کو بھی بھرپور سراہنا چاہئے کہ انہوں نے فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ عوام کے جان و مال کو نقصان سے بچایا۔
یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ھے کہ انہی لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو گیارہویں شریف کا ختم انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ دلواتے ہیں، نذر و نیاز کرتے ہیں اور خود کو دین و عقیدت سے وابستہ ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ھے کہ یہی لوگ جب دودھ میں ملاوٹ کرتے ہیں اور معصوم بچوں کی زندگیوں کو زہر آلود کرتے ہیں تو انہیں ذرا سا بھی احساس نہیں ھوتا کہ وہ کس سنگین گناہ کے مرتکب ھو رھے ہیں۔ دین کے نام پر عقیدت کا مظاہرہ کرنا اور عمل میں انسانیت کے دشمن بن جانا اس دور کا سب سے بڑا المیہ ھے۔ ایسے افراد کے لئے لازم ھے کہ وہ اپنے ضمیر کا محاسبہ کریں، کیونکہ گیارہویں شریف کا ختم دلوانا ایک نیک عمل ھے مگر اس کے ساتھ ھی اگر عوام کے بچوں کی زندگیوں سے کھیلا جائے تو یہ سب دکھاوا اور ریاکاری کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا۔
فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کی یہ کارروائیاں صرف ایک قانونی عمل نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہیں۔ لاکھوں لٹر  ملاوٹ  شدہ دودھ ضائع کرنا آسان کام نہیں تھا، مگر جب یہ سوچ ذہن میں یقین  بن گئی ھو کہ یہ دودھ دراصل زہر ھے تو پھر یہ قربانی ضروری بن جاتی ھے۔ اگر یہ دودھ مارکیٹ میں پہنچ جاتا تو ہزاروں بچے، خواتین اور بزرگ بیمار پڑ جاتے۔ حکومت پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ کے  ویژن  اور احکامات کو چیف سیکرٹری زاہد اختر  زمان نے تکمیل  تک پہنچا کر یہ ثابت کیا کہ وہ عوامی صحت کو پہلی ترجیح دیتے ہیں۔
 لیکن عوام کو یہ بھی سمجھنا ھوگا کہ یہ صرف فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ملاوٹ ختم کرے، بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ھے کہ وہ خالص دودھ کا تقاضا کرے اور جہاں کہیں ملاوٹ دیکھے، اس کی نشاندھی کرے۔ اگر عوام خود بھی شعور کے ساتھ میدان میں آئیں گے تو یہ مافیا اپنی جڑوں سمیت ختم ھو جائے گا۔
یہاں یہ بات دہرانا ضروری ھے کہ دودھ میں ملاوٹ کرنے والے دراصل قوم کے مستقبل پر حملہ آور ہیں۔ وہ معصوم بچوں کو بیمار کرتے ہیں،  غریب خاندانوں کو مشکلات میں ڈالتے ہیں اور ہسپتالوں کو مریضوں سے بھر دیتے ہیں۔ ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ان پر دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات چلانے چاہئیں تاکہ انہیں انسانیت کے خلاف جرم کرنے پر کڑی سے کڑی سزا ملے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کو  میرا یہ پیغام دینا ضروری ھے کہ اگر   عوام  کی  صحت  کے قاتلوں کو سخت سزائیں نہ دی گئیں تو عوام کا عدلیہ پر اعتماد مجروح ھوگا۔ عوام چاہتے ہیں کہ وہ لوگ جو ان کے بچوں کو زہر پلا رھے ہیں، انہیں پھانسی کے پھندے تک پہنچایا جائے۔ یہی وہ انصاف ھے جو اس قوم کو درکار ھے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ھوگا کہ فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے حالیہ آپریشن نے یہ ثابت کر دیا ھے کہ اگر نیت صاف ھو، قیادت جرات مند ھو اور ٹیم مخلص ھو تو بڑے سے بڑا مافیا بھی قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا ویڑن، ڈی جی فوڈ عاصم جاوید  کی دلیرانہ قیادت، پولیس کا بھرپور کردار اور عدالتوں سے توقعات، یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں ایک صاف اور خالص پنجاب کا خواب جھلکتا ھے۔ اب وقت
 آ گیا ھے کہ ہم سب اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ دودھ خالص ھوگا تو آنے والی نسلیں صحت مند ھوں گی اور صحت مند قوم ھی ترقی کی ضمانت ھوتی ھے۔