تحریر: فرخ ریاض بٹ
جس ایشو پر شور مچ جاتا ہے وہ وقتی طور پر مسئلہ حل ہوتا نظر تو آتا ہے مگر حل ہوتا نہیں جس طرح رشوت ملاوٹ اور جگہ جگہ کرپشن کے اشتہارات عجیب سا شور سن کر دیکھ کر کان پک جاتے ہیں آنکھیں تھک جاتی ہیں لیکن آج بھی لاہور بھر میں بجلی چوری، سوئی گیس چوری ،پانی چوری کے واقعات سرفہرست ہیں۔ آج بھی تاروں پر کنڈیاں، کانٹے، کْنڈے ،کنڈیاں یہ سب حملے جاری ہیں۔آج بھی واپڈا کے کافی اہلکاران کنڈا کنڈی ،کانٹا کانڈی مافیا موجود ہیں اور مسلسل سرگرم ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی گھناؤنا روگ ہے جسے 25 کروڑ عوام نے اپنی بہادر پاک فوج سے مل کر ختم کرنا ہے ۔اس وقت بھونڈی سیاست چل رہی ہے،پی ٹی آئی ، ٹی ایل پی اور تحریک طالبان پاکستان ،جماعت اسلامی یہ سب عمران نیازی کی فوری رہائی کے لیے مل کر پاکستان میں دہشتگردی کا موجب بن رہے ہیں، پی ٹی آئی کی بوگس نااہلی اور ملک دشمن عناصر سے مل کر ملک میں ٹی ٹی پی اور جماعت اسلامی کے شر پسند طالب علموں کی مدد سے دہشت گردی خاص کر بلوچستان کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ ریلوے انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ فوراً سے پہلے سکھر سے سبی اور کوئٹہ چمن تک کا علاقہFWO، NLC کے سپرد کر دیں تاکہ پاک مسلح افواج خفیہ ایجنسیوں اور پولیس رینجرز کے مکمل تعاون سے ملک سے دہشت گردی کی لعنت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔
حقیقت اگر آپ دیکھیں تو رشوت ،لالچ ،حرص ،مفاد پرستی، موقع پرستی ،کرپشن اور دہشت گردی سب ایک ہیں یعنی خوارجی کا خاتمہ ہی مضبوط پائیدار امن، بھائی چارے ،تعمیر و ترقی، خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اب ذرا چند الفاظ نئے خطرناک موذی نشے "جاگو کی طرف " جاگو نشے کا نام منشیات فروشوں نے رکھا ہے جاگو نشہ افغانستان سے پاکستان آ رہا ہے۔ یہ مصری طرزکا نشہ ہے۔ "میٹھی مصری "اسے خالی بلب میں ڈال کر نیچے آگ جلا کر ان کی بھاپ نشہ کرنے والے ناک منہ کے راستے اپنے جسم میں لے جاتے ہیں اس موذی نشے کو استعمال کرنے والے مسلسل کئی دنوں تک جاگتے رہتے ہیں،آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔ اس نشے سے انسان کا خون خشک ہونے لگتا ہے اور نشی ترس ترس کر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ آج کل ریلوے لائن، فاروق گنج، بیرون شیرانوالہ گیٹ، بادامی باغ ، ریلوے اسٹیشن کے ارد گرد جو قبضہ مافیاں ہیں وہ سرگرم ہیں یہی منشیات استعمال کرنے والے جب نشہ کے لیے روپے پیسے نہیں ملتے تو یقینا یہ بھی دہشت گردی کا سبب بن رہے ہیں۔ پیسہ دو اور کچھ بھی کروا لو۔ اب اے این ایف اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کو فوری الرٹ رہنا چاہیے اور منشیات فروشوں اور دہشت گردوں کو کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اب تک، کب تک، تب تک، آخر کب تک ملک میں کرپشن جہاد برائے انسداد دہشتگردی منشیات کے خلاف باقاعدہ جنگ قبضہ مافیہ ڈرگ مافیا کے خلاف باقاعدہ جنگ جو جاری ہے 25 کروڑ عوام لوگوں اور اپنی بہادر پاک مسلح افواج کے سنگ مختصر یہ کہ دوحہ میں جو عرب ممالک اور امریکہ کی باہمی رضامندی سے افغانستان میں اچھی بھلی صحت مند تعمیرات ترقی اور خوشحالی کی جانب پرامن مقاصد کی جانب امریکی افواج کے زیر نگرانی اسلامی جمہوریہ حکومت کامیاب چل رہی تھی اور نہایت کامیابی سے تعمیر و ترقی خوشحالی امن تعلیم صحت اور روزگار کے تحفظ کے لحاظ سے کامیابی کی منازل طے کرنے لگی لیکن دوحہ میں اچانک عجیب فیصلے آگئے کہ جتنے بھی فسادازم ، فتنہ ازم ،منافقت ازم خیالات کے مولوی ہیں انہیں اپنے سر سے اتار کر افغانستان میں حکومت سونپ دی گئی۔اب مولانا فضل الرحمن کی مثال یوں ہے ایک بطخ چھلانگ مار کر کبھی ذرا ہٹ سائیڈ پر اور کسی left سائیڈ پر آ جاتی ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف)کو چاہیے اب ذرا فیصلے سوچ سمجھ کر کریں موجودہ اسلامی جمہوری حکومت اور مسلح افواج کا ساتھ دیں وقت ہاتھ سے نکل گیا توکچھ حاصل نہ ہوگا۔ اب دوسری طرف بھارت ہر روز مختلف ٹی وی چینلز پر اپنی بھارتی افواج کی بہادری کی جو مثالیں دے رہا ہے ان کا میدان جنگ میں بس ایک جواب ہے نعرہ تکبیر اللہ اکبر نعرہ رسالت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خیر مدد نعرہ حیدری یا علی مدد یہ نعرے جب فضائے جنگ میں گونجتے ہیں تو بھارتی افواج پر خوف خدا طاری ہونے لگتا ہے۔
آج ملک وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف صدر پاکستان آصف علی زرداری اور اتحادیوں کے تعاون سے ملک کی صنعت رفعت تعمیرات معاشی انقلاب کی طرف گامزن ہونے لگا ہے تواس صورتحال میں دہشت گردی کی نئی لہر سامنے آگئی ہے۔ حکومت کو پاک فوج کی مددسے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بڑا آپریشن شروع کرنا چاہیے۔پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔