قاسم علی
قارئین کرام نرسنگ صرف ایک ملازمت نہیں، یہ انسانیت کی خدمت کا ایسا شعبہ ہے جس میں کام کرنے والے مرد و خواتین دن رات دوسروں کی زندگی بچانے اور تکلیف کم کرنے کے لیے اپنی نیند، آرام اور ذاتی مصروفیات قربان کرتے ہیں۔ ہسپتال کی عمارت کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، ڈاکٹرز اور جدید مشینری کتنی ہی دستیاب کیوں نہ ہوں، نرسنگ اسٹاف کے بغیر صحت کا نظام ادھورا رہتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں انہی نرسز کے تحفظ، عزت اور کام کے ماحول کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ حق دار ہیں۔
راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے سامنے آنے والی صورتحال نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا ہماری نرسز اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے واقعی محفوظ ہیں؟ اطلاعات کے مطابق نائٹ شفٹ کے دوران ایک نرس کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب رویے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد نرسنگ اسٹاف نے شدید احتجاج کیا اور ہسپتال میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔ واقعے کے بعد ڈیوٹی کے اوقات میں سکیورٹی بڑھانے اور نرسز کو تحفظ فراہم کرنے کی آواز بلند ہوئی۔
یہ معاملہ محض ایک ہسپتال کی سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے رویے کا آئینہ ہے۔ نرس اگر رات کے پچھلے پہر ایک انتہائی تشویشناک مریض کے سرہانے کھڑی ہے، اس کی حالت مانیٹر کر رہی ہے، ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے اور مریض کے لواحقین کو تسلی دے رہی ہے تو اس وقت اسے خود کسی خوف یا ہراسانی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ آنے والے بعض اٹینڈنٹس کا غصہ اور بے صبری اکثر طبی عملے کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ مریض کی حالت خراب ہو تو لواحقین پریشان ہوتے ہیں، لیکن یہ پریشانی کسی نرس، ڈاکٹر یا پیرامیڈیکل اسٹاف کے ساتھ بدتمیزی، دھمکی یا تشدد کا جواز نہیں بن سکتی۔
اور پھر سوال صرف راولپنڈی تک محدود نہیں رہتا۔
خیبر پختونخوا میں نرسنگ کی طالبات سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے بھی اس بحث کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ پشاور میں نرسنگ کی خواتین طلبا کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا اور طالبات کو مبینہ طور پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، کیونکہ تعلیم حاصل کرنے والی نرسنگ طالبات کسی ہسپتال یا تعلیمی ادارے میں اپنے حقوق اور مسائل کے لیے آواز اٹھاتی ہیں تو ریاستی اداروں کا اولین فرض ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔اسی حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب پشاور میں نرسنگ کی طالبات مبینہ طور پر پولیس ایکشن کا سامنا کر رہی تھیں تو حکومتی ترجیحات کیا تھیں؟ سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ تنقید بھی سامنے آئی کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سندھ کے دورے میں مصروف تھے جبکہ پشاور میں نرسنگ کی طالبات احتجاج کر رہی تھیں۔ اس دعوے اور واقعے کی مکمل سرکاری تصدیق ضروری ہے، لیکن سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کسی صوبے کی نرسنگ طالبات سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں تو کیا متعلقہ حکومت کو ان کے مسائل براہِ راست سننے کے لیے فوری طور پر سامنے نہیں آنا چاہیے؟سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نرسز کے مسائل اکثر اس وقت قومی بحث بنتے ہیں جب کوئی بڑا واقعہ پیش آ جائے۔ جب نرسز خاموشی سے رات کی ڈیوٹیاں کرتی ہیں، اضافی کام کرتی ہیں، مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں تو ان کی مشکلات خبروں کی زینت نہیں بنتیں۔ لیکن جب احتجاج شدت اختیار کرتا ہے تو سب کو یاد آتا ہے کہ نرسنگ اسٹاف بھی اس ملک کے صحت کے نظام کا بنیادی ستون ہے۔
یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ نرسنگ کی طالبات اور نرسز آخر احتجاج پر کیوں آتی ہیں؟ کیا ان کے مسائل سننے کے لیے اداروں میں مؤثر فورم موجود نہیں؟ کیا ہسپتالوں میں سکیورٹی کے واضح پروٹوکول نہیں ہونے چاہئیں؟ کیا نائٹ ڈیوٹی کرنے والی خواتین کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات نہیں ہونے چاہئیں؟ اور کیا نرسنگ کی طالبات کو اپنی تعلیم، تربیت اور مستقبل سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا چاہیے؟ریاست کا کام صرف ہسپتال بنانا نہیں بلکہ ان ہسپتالوں میں کام کرنے والے افراد کو محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔ ایک طرف ہم صحت کے شعبے میں بہتری کے دعوے کرتے ہیں، دوسری طرف اگر اسی شعبے کی نرسز خود عدم تحفظ کا شکار ہوں تو ہمیں اپنے دعووں کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا۔
خصوصاً خواتین نرسز کے معاملے میں انتظامیہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ نائٹ شفٹ میں سکیورٹی اہلکاروں کی مناسب تعیناتی، وارڈز میں غیر ضروری افراد کے داخلے کی روک تھام، سی سی ٹی وی کیمروں کی مؤثر نگرانی، ایمرجنسی بٹن یا فوری مدد کا نظام اور کسی بھی شکایت پر فوری کارروائی جیسے اقدامات صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔
نرس کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے شخص کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہسپتال کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ اپنی مرضی سے عملے کو دھمکا سکے۔ اسی طرح پولیس اور انتظامیہ کو بھی احتجاج کرنے والے نرسنگ اسٹاف اور طالبات کے ساتھ معاملہ کرتے وقت طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور قانونی طریقہ کار کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر کہیں قانون شکنی ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ضرور ہونی چاہیے، مگر پرامن احتجاج اور تشدد میں فرق برقرار رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ نرسنگ کا شعبہ صرف خواتین کا شعبہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی صحت کا شعبہ ہے۔ آج جو طالبہ نرسنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہے، کل وہ کسی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ہماری، آپ کی یا ہمارے کسی عزیز کی جان بچانے کے لیے موجود ہوگی۔ اگر آج ہم اس طالبہ کو عزت اور تحفظ نہیں دے سکتے تو کل ہم اس سے کس جذبے کے ساتھ خدمت کی توقع کریں گے؟میڈیا کے حوالے سے بھی ایک اہم سوال موجود ہے۔ یہ تاثر پیدا ہونا تشویشناک ہے کہ بعض واقعات اس لیے زیادہ نمایاں نہیں ہوتے کیونکہ ان میں وہ تجارتی کشش نہیں ہوتی جو سیاست، تنازعات یا سنسنی خیز خبروں میں ہوتی ہے۔ اگر نرسنگ کی طالبات کئی گھنٹے احتجاج کریں، اگر کسی ہسپتال میں نرس کی سکیورٹی پر سوال اٹھے اور اگر طبی عملہ اپنے تحفظ کے لیے آواز بلند کرے
تو یہ بھی خبر ہے۔ کیونکہ یہ خبر صرف نرسز کی نہیں، ہم سب کی صحت اور مستقبل کی خبر ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں نرسنگ اسٹاف اور طلبا کے مسائل کو محض احتجاج ختم کرنے کے تناظر میں نہ دیکھیں بلکہ مستقل بنیادوں پر پالیسی بنائیں۔ ہسپتالوں میں سکیورٹی آڈٹ کرائے جائیں، نرسز کے لیے شکایات کا مؤثر نظام بنایا جائے، خواتین عملے کے تحفظ کے خصوصی انتظامات کیے جائیں اور کسی بھی بدسلوکی یا تشدد کے واقعے پر فوری اور غیر جانب دارانہ کارروائی ہو۔نرس سفید لباس میں ملبوس صرف ایک ملازم نہیں ہوتی؛ وہ بیمار انسان کے لیے امید، تسلی اور خدمت کی علامت ہوتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں مریض کی دوا بھی ہوتی ہے اور اس کے دل میں مریض کے لیے دعا بھی۔ وہ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس کے اپنے زخموں پر مرہم کون رکھے گا؟راولپنڈی سے پشاور تک سامنے آنے والے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ نرسز کو صرف خراجِ تحسین نہیں، تحفظ بھی چاہیے؛ صرف تالیاں نہیں، عزت بھی چاہیے؛ صرف حوصلہ افزائی نہیں، محفوظ کام کا ماحول بھی چاہیے۔اگر ہم واقعی اپنے صحت کے نظام کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہسپتال کی مشینوں کے ساتھ ساتھ وہاں کام کرنے والے انسانوں کی حفاظت بھی یقینی بنانا ہوگی۔کیونکہ محفوظ نرس ہی محفوظ مریض کی بہتر خدمت کر سکتی ہے۔