سفید پوش طبقہ کی مہنگائی سے جنگ

طلعت بٹ
ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا غریب کے ساتھ ساتھ وہ سفید پوش طبقہ ہے جو بظاہر خوش حال دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے معاشی ٹوٹ پھوٹ اور مشکلات کا شکار رہتا ہے. یہ وہ طبقہ ہے جو نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، اور نہ ہی اپنی پریشانیاں بیان کرتا، اور نہ ہی معاشرے کے سامنے اپنی مشکلات اور تکلیفوں کا اظہار کرنا پسند کرتا ہے. سفید پوش طبقے کا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا رہتا ہے، تاکہ اس کی زندگی کے معاملات بہتر طریقے سے چلتے رہیں. مگر اس کے باوجود اس کو کسی نہ کسی ضرورت کو قربان کرنا پڑتا ہے. ایک سرکاری ملازم، ایک چھوٹا کاروباری، ایک استاد، ایک کلرک، ایک ریٹائرڈ شخص، یا ایک متوسط گھرانے کا سربراہ جب مہینے کے آغاز میں اپنی تنخواہ وصول کرتا ہے تو چند دنوں کے لیے اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی تمام مشکلات ختم ہوگئی ہوں، لیکن بجلی، گیس، پانی، گھر کا کرایہ، بچوں کی فیس، راشن، ادویات اور سفری اخراجات اس کی آمدنی کو دیکھتے ہی دیکھتے کھا جاتے ہیں. آج کا سفید پوش انسان سب سے پہلے اپنی خواہشات کو قربان کرتا ہے۔ پھر وہ اپنی ضروریات میں کمی کرتا ہے اور آخرکار بعض اوقات بنیادی سہولتوں سے بھی سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بچوں کی فرمائشیں پوری نہ کرنا والدین کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ وہ ہوتا ہے. جب بچہ نئے جوتے، کپڑے، کتاب یا کسی تعلیمی سرگرمی کے لیے رقم مانگتا ہے تو والدین کے پاس اسے سمجھانے کے لیے اکثر الفاظ تو ہوتے ہیں، مگر وسائل نہیں ہوتے. اسطرح مہنگائی اس گھر کے بجٹ کا پورا نقشہ ہی بدل دیتی ہے. پہلے ایک متوسط گھرانے کی آمدنی میں راشن، تعلیم، علاج، لباس اور بچت کے لیے رقم نکالی جاسکتی تھی. اب بیشتر خاندانوں کے لیے ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ صرف بنیادی اخراجات پورے کرنے میں صرف ہوجاتا ہے. بچت ایک خواب بنتی جارہی ہے اور اچانک آنے والا خرچ پورے مہینے کا بجٹ کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے. سب سے زیادہ تشویش ناک صورتحال علاج کے معاملے میں ہے. بیماری کبھی بتا کر نہیں آتی. جب گھر میں کوئی فرد بیمار ہوجائے تو سفید پوش خاندان کے لیے یہ صرف طبی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک بہت بڑا مالی بحران کھڑا ہو جاتا ہے. ادویات کی قیمتیں، ڈاکٹر کی فیس، ٹیسٹ اور ہسپتال کے اخراجات ایک عام گھرانے کی کمر توڑ دیتے ہیں. بعض لوگ صرف اس خوف سے علاج مؤخر کرتے رہتے ہیں، کہ علاج کے لیے اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی. تعلیم بھی سفید پوش طبقے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے. والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں، لیکن بڑھتی ہوئی فیسیں، یونیفارم، کتابیں، ٹرانسپورٹ اور دیگر تعلیمی اخراجات نے والدین کو سوچوں پر تالے لگا دیے ہیں. ایک طرف والدین بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتے ہیں اور دوسری طرف موجودہ اخراجات ان خوابوں کو محدود کرتے چلے جاتے ہیں.
مہنگائی کا ایک خطرناک اثر انسانی نفسیات پر بھی پڑتا ہے. مسلسل مالی دباؤ انسان کو ذہنی تھکن، بے چینی اور مایوسی کی طرف دھکیل لے جاتا ہے. گھر کا سربراہ جب دن بھر کام کرکے واپس آتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے کئی اخراجات ابھی باقی ہیں تو اس کے لیے سکون کی بجائے دن گزارنا مشکل ہوجاتا ہے. کئی لوگ اپنی پریشانی اپنے اہل خانہ سے بھی چھپاتے ہیں تاکہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو. یہاں ایک اہم سوال ہے کہ سفید پوش طبقہ آخر جائے تو کہاں جائے؟ غریب طبقے کے لیے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری امدادی پروگرام موجود ہیں. وہ کسی نہ کسی ادارے، فلاحی تنظیم یا مخیر شخص سے مدد حاصل کر لیتا ہے. لیکن سفید پوش انسان کسی سے بھی مدد مانگنے سے گریز کرتا ہے. اس کی سب سے بڑی وجہ اس کی عزتِ نفس ہوتی ہے. جس کو بچانے کے لیے وہ ساری زندگی صرف کر دیتا ہے. وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو اس کی مالی مشکلات کا علم نہ ہو. مگر یہی خاموشی اسے اندر ہی اندر سے مزید کمزور کرتی رہتی ہے. ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے تبدیلی کی ضرورت ہے. ہمیں یہ سوچنا سمجھنا ہوگا کہ کسی ضرورت مند کی مدد محض صرف اس وقت نہیں کی جانی چاہیے جب وہ ہمارے سامنے ہاتھ پھیلائے مگر بعض اوقات سب سے زیادہ ضرورت مند وہی شخص ہوتا ہے جو خاموشی سے اپنے مسائل کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہوتا ہے. معاشرتی لحاظ سے محلے، برادری اور خاندان کی سطح پر ایسے لوگوں کی مدد کا ایک باوقار نظام قائم ہونا چاہیے. جس کے تحت کسی سفید پوش خاندان کے بچے کی فیس بغیر دوسرے ہاتھ کو پتہ چلنے کے ادا کردی جائے، کسی بیمار شخص کے علاج کا خرچ اٹھا لیا جائے یا کسی گھر کے راشن کا انتظام خاموشی سے کردیا جائے تو یہ محض مالی مدد نہیں بلکہ کسی انسان کی عزتِ نفس کی تکریم و تحریم ہے. حکومت کی ذمہ داری بھی اپنی جگہ بہت اہم ہے. مہنگائی پر قابو پانے کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں. بلکہ روزمرہ زندگی کے استعمال کی اشیاء￿  و خرد و نوش کی قیمتوں کو مستحکم کرنا ہے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے بنیادی سہولتوں کو قابلِ رسائی بنانا ضروری ہے. خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کے مسائل کو سنجیدگی سے سمجھ ان کے لیے بہترین حل تلاش کرنا ہے. ایک شخص کی آمدنی اگر کئی برس تک تقریباً ایک جیسی رہے لیکن اخراجات مسلسل بڑھتے جائیں تو اس کا معیارِ زندگی لازماً متاثر ہوگا. تنخواہوں اور آمدنی میں اضافہ اس رفتار سے ہونا چاہیے کہ لوگوں کو کم از کم بنیادی ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا نہ ہو. ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ترقی کا اصل مقصد کیا ہے؟اگر ملک میں عمارتیں بلند ہوتی جائیں، بازار آباد ہوں، مگر عام آدمی اپنے گھر کا بجٹ بنانے سے قاصر ہو تو ایسی ترقی کے ثمرات پر سوال ضرور اٹھتا ہے. اقتصادی ترقی کا اصل فائدہ اس وقت سامنے آتا ہے جب عام شہری کے گھر میں چولہا جل سکے، بچے اچھی تعلیم حاصل کرسکیں، بیمار کو علاج مل سکے اور مستقبل کے لیے کچھ بچت بھی ممکن ہو. سفید پوش طبقہ کسی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے. یہی طبقہ ٹیکس دیتا ہے، بچوں کو تعلیم دلاتا ہے، ملازمتیں کرواتا ہے، چھوٹے کاروبار چلاتا ہے اور معاشرے کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. اگر یہی طبقہ مسلسل معاشی دباؤ کا شکار رہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں. آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سفید پوش طبقے کی خاموش تکلیفوں کو سمجھیں. ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں کسی شخص کو اپنی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے اپنی عزتِ نفس قربان نہ کرنا پڑے. جہاں مدد مانگنے والے کو حقیر نہ سمجھا جائے اور جہاں صاحبِ حیثیت لوگ دوسروں کی مشکلات کو اپنا مسئلہ سمجھیں. مہنگائی فوراً ختم نہیں ہوتی، مگر اس پر وقت کے ساتھ ساتھ قابو پایا جا سکتا ہے معاشی مسائل بھی ایک دن میں حل نہیں ہوسکتے، لیکن انسانی ہمدردی، اجتماعی ذمہ داری اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے اس کے اثرات ضرور کم کیے جاسکتے ہیں. سفید پوش طبقہ آج بھی خاموش ہے. وہ قطار میں کھڑا ہے، بل ادا کررہا ہے، بچوں کی فیس دے رہا ہے، گھر کا راشن خرید رہا ہے اور اپنی پریشانی کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپا رہا ہے. اس کی خاموشی کو اس کی خوش حالی نہ سمجھا جائے. کیونکہ بعض اوقات جو شخص سب سے زیادہ مطمئن دکھائی دیتا ہے، وہی اندر سے سب سے زیادہ پریشان ہوتا ہے. یہ وقت صرف مہنگائی پر بات کرنے کا نہیں، بلکہ ان خاموش لوگوں کو سمجھنے کا بھی ہے جو اپنی عزتِ نفس کو بچا کر خاموشی کے ساتھ زندان کے قیدی کی طرح زندگی گزارنے جیسی جنگ لڑ رہے ہیں.