ہمارے رویئے قوم کے مستقبل کیلئے زہر قاتل

ثمر عباس لنگاہ

آج کا پاکستان ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے، جہاں جمہوری قدریں اور عوامی مفادات اقتدار کی ہوس کے سامنے دم توڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ لاہور سے اسلام آباد تک نکلنے والے احتجاج نے ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آنے والے تشدد کے واقعات نے انسانیت کو شرمسار کر دیا۔ مظفر گڑھ کے کانسٹیبل مبشر، جو اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران جان کی بازی ہار گئے، صرف ایک سرکاری ملازم نہیں تھے بلکہ وہ تین بچوں کے والد اور ایک خاندان کی امید تھے۔ ان کے جانے سے نہ صرف ان کا گھر اجڑ گیا بلکہ یہ معاشرہ ایک اور اخلاقی امتحان میں ناکام رہا۔
یہ منظرنامہ محض ایک فرد یا جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے۔ مظاہروں میں شامل شرپسند عناصر نے نہ صرف قانون کو پامال کیا بلکہ ان مظلوم پولیس اہلکاروں پر بھی حملہ کیا جو عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی انصاف اور قانون کی بالادستی ہے جس کا نعرہ لگایا جاتا رہا؟
اسلام آباد کی بند گلیاں اور کنٹینرز کی دیواریں ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتی ہیں کہ ہمارے قائدین اپنی انا کے قیدی ہیں۔ عوامی خدمت کے دعوے کرنے والے، اپنی سیاست کو محفوظ رکھنے کے لیے عوام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ جبکہ حزب اختلاف، عوامی جذبات کو بھڑکا کر اپنی حکمت عملی کے مہرے چلا رہی ہے۔ یہ دونوں رویے اس قوم کے مستقبل کے لیے زہر قاتل ہیں۔
 دوسری طرف عوام، جو ایک بہتر کل کی امید لیے نکلتی ہے، ان ہنگاموں کی قیمت اپنے خون سے ادا کرتی ہے۔
آج کی سیاست، جذباتیت اور اشتعال انگیزی کے زہر میں ڈوب چکی ہے۔ ایک جانب حکومتی اقدامات عوامی جذبات کو مزید بھڑکاتے ہیں تو دوسری طرف حزب اختلاف اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دیتی ہے۔ کیا یہ سب ہمیں کسی بہتری کی طرف لے جا رہا ہے؟
معاشرتی اقدار کی تعمیر احتجاج سے نہیں بلکہ مثبت مکالمے اور اصلاحی عمل سے ممکن ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کی زندگیوں کا تحفظ سب سے اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر آج ہم نے شرپسند عناصر اور غیر ضروری طاقت کے استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے، تو کل کا پاکستان مزید تاریکی میں دھکیل دیا جائے گا۔
اور ہاں یاد رکھیے، تبدیلی راتوں رات نہیں آتی بلکہ وقت لگتا ہے۔۔۔