غلام علی جاوید
مجھے استاد جی کہیں مجھے اچھا لگتا ہے کیونکہ میں قلبِ معاشرہ ہوں ،میںمعاشرتی سوچ کی بینائی ہوں، قوم کی غیرت کا عَلَم ہوں، رکھ رکھائوکا پیکر ہوں۔ روایات کی بقاکا ضامن ہوں،ملت کا پاسبان ہوں ، قومی طبیب ہوں،نسلوں کا ضمیر اورسچا وکیل ہوں۔مجھے معمارِ ملت بھی کہا جاتا ہے۔شاگردوں کی تعلیم و تربیت کی بدولت روحانی باپ بھی ہوں۔ننھے پھولوں کی آبیاری میری سوچ سے ہی ہوتی ہے۔ میرے منہ سے نکلے الفاظ قوم کی تقدیر بنتے ہیں ۔میرے کلام اور تفکر سے ہی قوم کی نظریاتی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں ، اخلاقی خوشبوئوں سے فضائیں معطرہوتی ہیں۔ اقتصادی اور سماجی دیواریں مضبوط ہوتی ہیں۔ میں بادشاہ نہیں ہوںمگر اپنے شاگردوں کو بادشاہ بنایاہے۔مجھے معلوم ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان میں کہیں کہیں استاد کے نام پر سوچ کا قلم ذرا مڑ جاتا ہے مگر میں اپنے تقدس کی قوت کو جانتا ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ پہلا استاد خود خدا ہے۔ یہ بھی علم ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فوقیت علم ہی کی بنا پر ہے۔سرورِ کائنات ؐ کو بھی استاد ہی بنا کر بھیجا گیا ہے۔
زمانہ طفولیت میں دو لفظوں سے زیادہ واسطہ پڑتا تھا ایک ’اماں‘ دوسرا ’استاد جی‘ ۔ یہ دونوں الفاظ رَس بھرے ہیں ان میں شیرینی سی محسوس ہوتی ہے۔یہ دونوں ہستیاں بچپن میں کل کائنات ہوا کرتی تھیں۔ انھوں نے ہی انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ۔پہلی درس گاہ ماں کی گود تھی جس نے ہر لحاظ سے سلجھایا، سمجھایا، سنوارا، تعلیم دی اور پیار دیا۔ جیسے جیسے شعور بڑھتا گیا استاد کی عظمت کا اندازہ ہوتا گیا۔استاد بننے کا شوق ابھرتا گیا۔بیتے دنوں میں استاد ہی اعلیٰ کردار تھا۔ ادب سے سلام لینا ، جھک کر ملنا، استاد کی خدمت کرنا شاگردوں کا طرہ امتیاز تھا۔چھٹی کے وقت طالب علم استادکے پیچھے ایسے چلا کرتے تھے جیسے کوئی فاتح اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ کے نکلا ہو۔ استاد کو سکول آتے جاتے دیکھ کر لوگ اپنی گھڑیوں کا وقت ٹھیک کیا کرتے تھے۔ استاد کا کسی غرض سے کبھی شاگرد کے گھر آجانا کسی سعادت سے کم نہیں ہوتا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے کوئی مرشد اپنے مرید کے گھر آیا ہو۔
؎ وہی شاگرد پھر ہو جاتے ہیں استاد اے جوہرؔ جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں
دنیا کی تمام قومیں استاد کی عظمت و مرتبے کی معترف ہیں۔ رسولِ خدا نے فرمایا کہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔حضرت علی ؑ کا قول ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام بن گیا۔امام شافعی اپنے استاد کے سامنے ایسے بیٹھتے تھے جیسے کوئی نماز میں بیٹھا ہو۔امام ابو حنیفہ ؒ فرماتے ہیں میں نے ساری زندگی اپنے استاد کے گھر کی طرف پائوںدراز نہیں کئے۔ افلاطون نے استاد کو ایسے چراغ سے تشبیہ دی ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔امریکی فلاسفر جان ڈیوی کے مطابق استاد محض علم دینے والا نہیں بلکہ سیکھنے کا ماحول فراہم کرنے والا رہنما اور مفکر ہوتا ہے۔مشہور استاد سقراط، افلاطون، ارسطو، کفیوشس، نیلسن منڈیلا، آئن سٹائن، جلال الدین رومی، علامہ اقبال ، ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر اشفاق احمداپنی اپنی علمی شمعیں روشن کر چکے ہیں۔ اساتذہ کی نظریاتی اور شعور ی انگڑائیوں کی بدولت قوموں میں انقلابی روح جنم لیتی ہے۔ جن قوموں نے استادوں کو عزت دی انھوں نے کامیابیاں سمیٹیں۔استاد اور شاگرد کا رشتہ دنیا کے مضبوط رشتوں کا روشن مینار ہے۔ استاد کی قدرومنزلت اس کے شاگردوں کی کامیابیوں سے مشروط ہوتی ہے ۔ شاگرد جتنے کامیاب ہوں گے استاد کی قابلیت کا تأثر اتنا ہی اچھا جائے گا۔کاش ایسا ہو جب ایوان میں کسی کو تمغہ دیا جائے تو اس سے پوچھا جائے کس استاد کی بدولت آج اس مقام پر ہو؟پھر اس ہستی کو بھی تمغہ سے نوازا جائے۔
؎ ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت
میں نے درس و تدریس کے شعبے میں بچوں کی اخلاقی تربیت کی خوشبوئیں پھیلائی ہیں۔خون جگر سے مستقبل کی راہوں میں کامیابیوں کے چراغ جلائے ہیں ۔مجھے اس وقت اپنی قدرو منزلت کا اندازہ ہوا جب میرے شاگردوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین نے میری عزت و تکریم کی۔ جب والدین نے اٹھ اٹھ کر سلام کئے ۔ جب انھی بچوں کے والدین نے میرے مشوروں سے اپنے بچوں کے مستقبل کے فیصلے کئے۔ جب محافل میں میرا نام شان و شوکت سے پکارا گیا۔ جب بڑے بڑے ناموروں سے اونچا بٹھایا گیا۔ مجھے تب اندازہ ہوا جب میرے جانے پر افسران نے ازراہ احترام کرسیاں چھوڑ یں۔جب بازاروں میں میرے سلام کی خاطر لوگ رکے، جھکے ۔ جب مجھ سے ملنے والوں کا تانتا بندھا۔ جب سرِبازار میرے ارد گرد ہجوم ہوئے۔ لوگوں نے سوچایہ شخص کون ہے؟ جس کے گردعاشق ایسے ہیں جیسے شہد کی مکھیاں اپنے چھتے کے ارد گرد ۔ ان کو معلوم ہوا کہ یہ بچوں کے استاد ہیں۔مجھے تب اندازہ ہوا جب میرے شاگردوں نے میرے حوالے دیے۔ مجھ سے اپنے کام اور کارنامے منسوب کئے۔
؎ رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
اب میرا مشن صدقہ جاریہ بن چکا۔ میری تھکاوٹ اتر چکی ، میرے سکون کی مالائیںسنور چکیں، گلشن آباد ہو چکا۔اب مجھے سلامی کے تحفے ملتے ہیں۔دعائیںمقدر بن چکی ہیں ۔ میرے چراغ جل چکے ہیں۔ مجھے امیدِ واثق اور یقین کامل ہے کہ میرے شاگردمجھے دعائوں میں یاد رکھیں گے ۔میرے ہوتے ہوئے بھی، میرے بعد بھی ۔