ناھید کوثر ادیب
کہتے ہیں وقت کے دھارے میں سب کچھ بہہ جاتا ہے، لیکن بچپن کی یادیں اور اس دور کے سچے رشتے دل کے کسی کونے میں ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔ آج جب زندگی کی گہما گہمی، ٹیکنالوجی کی دوڑ اور مصروفیت کے ہجوم میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں، تو مٹی کے وہ کچے صحن، تختی کی سیاہی، اور سکول کا وہ زمانہ یاد آ جاتا ہے جہاں ہماری دنیا بہت معصوم اور محدود تھی۔ اس معصوم دنیا کا سب سے معتبر، سب سے محترم اور سب سے پیارا چہرہ ہمارے "استاد" کا تھا۔
وہ بھی کیا زمانہ تھا جب ہم اپنے اساتذہ سے بے پناہ، بے غرض اور سچی محبت کرتے تھے۔ وہ محبت خوف سے نہیں، بلکہ ایک ایسی عقیدت سے پیدا ہوتی تھی جس کی مثال آج کے دور میں ملنا مشکل ہے۔ استاد کا سکول کی گلی میں داخل ہونا ایک ہیبت بھی تھا اور ایک خوشی بھی۔ جب وہ کلاس میں آتے، تو یوں لگتا جیسے علم کا کوئی روشن چراغ ہمارے سامنے آ گیا ہو۔ ہم ان کی ہر بات کو پتھر پر لکیر سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہہ دیا کہ زمین گول ہے، تو گول ہے؛ انہوں نے کہہ دیا کہ محنت میں عظمت ہے، تو ہم نے اسے اپنی زندگی کا اصول بنا لیا۔
اس دور میں استاد صرف کتاب پڑھانے والا ایک ملازم نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ ایک شفیق باپ اور ایک ہمدرد ماں کی طرح ہماری تربیت کرتا تھا۔ اگر کبھی کسی شرارت پر ڈانٹ پڑتی یا کان پکڑے جاتے، تو دل میں استاد کے لیے نفرت پیدا نہیں ہوتی تھی، بلکہ اگلی ہی گھنٹے ان کی ایک مسکراہٹ پانے کے لیے ہم دل و جان سے پڑھائی میں مگن ہو جاتے۔ استاد کی ذرا سی تعریف، ان کی طرف سے کاپی پر ملنے والا ایک ستارہ (Star) یا "گڈ" (Good) ہمارے لیے دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ہوتا تھا، جسے ہم پورے محلے اور گھر والوں کو فخر سے دکھاتے پھرتے تھے۔
آج کے ڈیجیٹل دور اور سمارٹ کلاس رومز کو دیکھ کر دل کڑھتا ہے۔ آج تعلیم ایک کاروبار بن چکی ہے اور استاد و شاگرد کا رشتہ محض ایک فیس اور کورس ختم کرنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ آج کے بچوں میں وہ تڑپ، وہ ادب اور وہ محبت نظر نہیں آتی جو ہمارے دور کا خاصہ تھی۔ ہم تو اپنے استاد کی سائیکل کو صاف کرنا، ان کا رجسٹر اٹھا کر چلنا اور ان کے گھر کا کوئی چھوٹا موٹا کام کر دینا اپنے لیے سعادت اور خوش قسمتی سمجھتے تھے۔
بچپن کے وہ شفیق اساتذہ، جن میں سے کئی آج اس دنیا میں نہیں رہے اور کئی ضعیفی کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، انہوں نے ہمیں صرف پڑھنا لکھنا نہیں سکھایا، بلکہ انسان بننا سکھایا۔ انہوں نے ہمارے اندر سچائی، دیانت داری اور اپنوں سے محبت کے بیج بوئے۔ آج ہم زندگی کے جس مقام پر بھی ہیں، ان کی دعاؤں اور کڑی تربیت کی بدولت ہیں۔
اخبار کے توسط سے میں اپنے تمام بچپن کے اساتذہ کو سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ وقت بدل گیا، ہم بڑے ہو گئے، دنیا بدل گئی، لیکن ہمارے دلوں میں اپنے اساتذہ کے لیے جو محبت اور احترام بچپن میں تھا، وہ آج بھی قائم ہے اور تاIndices رہے گا۔ کاش! ہم اپنی نئی
نسل کو بھی اساتذہ کا وہ احترام سکھا سکیں جو کبھی ہماری گھٹی میں شامل تھا