محمد راشد تبسم
کسی بھی معاشرے کے مستقبل کا اندازہ اس کے کلاس رومز کی حالت سے لگایا جا سکتا ہے۔ اگر استاد باصلاحیت، تربیت یافتہ اور معاشی طور پر مطمئن ہو تو وہاں صرف نصاب مکمل نہیں ہوتا بلکہ نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت بھی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مسائل اور وسائل کی کمی کا شکار استاد تعلیمی نظام سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ اسی لیے ہر سال 5 اکتوبر کو عالمی یوم اساتذہ منانا محض رسمی دن نہیں بلکہ استاد کے مقام، مسائل اور مستقبل پر غور کرنے کا موقع ہے۔
2026 کے عالمی یوم اساتذہ کا موضوع ’’اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہونا: پیشے کے تحفظ کے 60 سال، اس کی حیثیت کو آگے بڑھانا اور اپنے مستقبل کی تشکیل‘‘ ہے۔ یونیسکو کے مطابق 2030 تک پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے عالمی اہداف پورے کرنے کے لیے تقریباً 4.4 کروڑ مزید اساتذہ کی ضرورت ہے۔ یہ کمی صرف تعداد کا مسئلہ نہیں بلکہ بہتر تربیت، مناسب سہولتوں اور پیشہ ورانہ تحفظ کی ضرورت بھی ظاہر کرتی ہے۔ تعلیمی بحران کا حل نئی عمارتوں اور جدید آلات کے ساتھ ایسے استاد کی تیاری میں بھی ہے جو بدلتے ہوئے تقاضوں کا سامنا کر سکے۔
اسکول کی عمارت، کتابیں، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی تعلیم کے اہم ذرائع ہیں، لیکن انہیں موثر تعلیمی تجربے میں تبدیل کرنے والا بنیادی کردار استاد ہی ادا کرتا ہے۔ اچھا استاد طالب علم کو صرف سبق یاد نہیں کراتا بلکہ سوال کرنے، دلیل دینے، تحقیق کرنے، اختلاف برداشت کرنے اور غلطی سے سیکھنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔ اس لیے استاد کی کامیابی کا پیمانہ صرف مکمل کیے گئے اسباق نہیں بلکہ طلبہ کی سیکھنے اور علم کو عملی زندگی میں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں علم کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘ (سورۃ الزمر: 9)۔ قرآن مجید کی پہلی وحی کا آغاز ’’اقرا‘‘ یعنی ’’پڑھو‘‘ کے حکم سے ہوا۔ رسول اکرم نے بھی علم حاصل کرنے اور آگے پہنچانے کی فضیلت بیان فرمائی۔ صحیح بخاری میں ہے: ’’تم میں بہترین وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔‘‘ یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ استاد کا کردار محض ایک ملازمت نہیں بلکہ علمی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
ہماری علمی تاریخ بھی استاد کی اہمیت کی گواہ ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کا تعلق ہو یا سید میر حسن اور علامہ اقبال کا رشتہ، استاد کی رہنمائی نے شاگرد کی علمی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ سید میر حسن نے اقبال کی صلاحیتوں کو پہچانا اور عربی و فارسی ادب سے ان کے تعلق کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ استاد کی بروقت حوصلہ افزائی طالب علم کی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔
پاکستان میں استاد کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک کو شعبہ تعلیم میں بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (پی آئی ای)، وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ’’ایجوکیشن پبلک فنانسنگ رپورٹ 2025-26‘‘ کے مطابق ملک میں تقریباً اڑھائی
کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس صورت حال کی بنیادی وجوہات میں ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط نظام اور کمزور طرزِ حکمرانی شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پرائمری اسکول میں اوسطاً 3.2 اساتذہ جبکہ ہائر سیکنڈری سطح پر 27.6 اساتذہ موجود ہیں۔ دوسری جانب غیر رسمی تعلیم کے 30,543 مراکز میں 34,256 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں 83 فیصد خواتین ہیں۔
دیہی علاقوں میں اساتذہ کو کثیر جماعتی تدریس، تدریسی مواد کی کمی، محدود سہولتوں اور تربیت کے کم مواقع جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ بعض عارضی اور ڈیلی ویجز اساتذہ معاشی عدم تحفظ سے بھی دوچار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ انتخابی ڈیوٹی، مردم شماری، انسدادِ پولیو مہم اور دیگر انتظامی ذمہ داریاں بھی بعض اوقات تدریسی وقت کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ قومی ذمہ داریاں اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم انہیں تدریسی ذمہ داریوں پر غالب نہیں آنا چاہیے۔
استاد کے معاشی اور پیشہ ورانہ تحفظ کو بھی تعلیمی اصلاحات کا لازمی حصہ سمجھنا ہوگا۔ بروقت تنخواہ، ملازمت کا تحفظ، محفوظ ماحول اور مسلسل تربیت استاد کے پیشہ ورانہ استحکام کے لیے ضروری ہیں۔ محض یوم اساتذہ پر تقریریں، مبارک بادیں اور پھول پیش کرنے سے استاد کا مقام بلند نہیں ہوتا؛ حقیقی احترام اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب تعلیمی پالیسی میں استاد کی ضروریات کو ترجیح دی جائے۔
جدید ٹیکنالوجی نے استاد کے کردار کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید اہم بنا دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، آن لائن لیکچرز، ڈیجیٹل کتابیں اور اسمارٹ فونز طلبہ کو چند سیکنڈ میں بے شمار معلومات تک رسائی دیتے ہیں۔ اب مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ درست معلومات کی شناخت، تنقیدی سوچ اور ذمہ دارانہ استعمال کا ہے۔
والدین اور معاشرے کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ استاد اور والدین کو ایک دوسرے کے مقابل فریق بنانے کے بجائے بچے کی تعلیم و تربیت کے شراکت دار سمجھنا چاہیے۔ استاد کی غیر ضروری تحقیر یا ہر تعلیمی مسئلے کا ذمہ دار صرف اسے قرار دینا طلبہ کے رویے پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ گھر اور اسکول کے درمیان مضبوط رابطہ تعلیمی نتائج کے ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان میں معیاری تعلیم کے لیے معیاری استاد پر سنجیدہ سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ بہتر تربیت، مناسب تعداد میں اساتذہ، بروقت تنخواہیں، محفوظ ماحول، جدید وسائل اور غیر ضروری انتظامی ذمہ داریوں میں کمی تعلیمی اصلاحات کی بنیادی ضرورت ہیں۔ استاد سے بہتر نتائج کی توقع بجا ہے، لیکن بہتر نتائج کے لیے اسے بہتر حالات فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔