استاد — کردار کا معمار

آپا منزہ جاوید 
زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا احسان انسان پوری زندگی نہیں بھول سکتا۔ والدین ہمیں زندگی عطا کرتے ہیں، مگر استاد ہمیں اس زندگی کو سمجھنے، سنوارنے اور بہتر انداز میں گزارنے کا شعور دیتا ہے۔ استاد وہ شخصیت ہے جو ایک بچے کے ہاتھ میں صرف کتاب نہیں دیتا بلکہ اسے علم کے ساتھ سوچنے کا سلیقہ، بات کرنے کا طریقہ، دوسروں کا احترام اور اپنے کردار کی حفاظت کا سبق بھی دیتا ہے۔ اس کے سامنے بیٹھنے والے بچے شاید اس وقت اس کے مقام اور عظمت کو پوری طرح نہ سمجھ سکیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت کی تعمیر میں کسی استاد کے الفاظ، رویے اور دعاؤں کا کتنا بڑا حصہ تھا۔
ایک استاد کی صبح شاید دوسروں کی صبح جیسی ہی ہوتی ہے لیکن اس کی ذمہ داری عام انسان سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ وہ گھر سے نکلتے وقت صرف اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہیں نکلتا بلکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ چند گھنٹوں بعد کئی معصوم ذہن اس کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ کسی بچے نے سبق یاد کیا ہوگا، کسی نے نہیں کیا ہوگا، کوئی سوال لے کر آئے گا، کوئی اپنی گھریلو پریشانی دل میں چھپائے بیٹھا ہوگا، کوئی شرمیلا ہونے کی وجہ سے ہاتھ نہیں اٹھا پائے گا اور کوئی اپنی ذہانت کے باوجود توجہ کا منتظر ہوگا۔ استاد کو ایک ہی وقت میں ان سب کو سمجھنا ہوتا ہے۔
درس گاہ میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر صرف کتاب پر نہیں بلکہ اپنے طلبہ کے چہروں پر بھی ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی کے لیے ایک بات ایک مرتبہ کہنا کافی ہوتا ہے اور کسی کو وہی بات کئی مرتبہ سمجھانی پڑتی ہے۔ کوئی فوراً جواب دے دیتا ہے اور کوئی اپنی جھجھک کے باعث خاموش رہتا ہے۔ ایک اچھا استاد اس خاموشی کو نااہلی نہیں سمجھتا بلکہ اس کے پیچھے چھپی وجہ تلاش کرتا ہے۔ وہ کمزور طالب علم کو سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامتا ہے تاکہ وہ بھی آگے بڑھ سکے۔
استاد کی اصل عظمت شاید اسی مقام پر ظاہر ہوتی ہے جہاں کتاب کا سبق ختم ہوجاتا ہے اور زندگی کا سبق شروع ہوتا ہے۔ وہ طالب علم کو بتاتا ہے کہ اچھے نمبر حاصل کرنا کامیابی کا صرف ایک حصہ ہے، اصل کامیابی اچھا انسان بننا ہے۔ علم اگر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہ کرے، اگر تعلیم اسے دوسروں کی عزت کرنا نہ سکھائے، اگر ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے سے کم حیثیت لوگوں کو حقیر سمجھنے لگے تو ایسی تعلیم اپنے مقصد سے دور ہوجاتی ہے۔
استاد اپنے عمل سے بھی بہت کچھ سکھاتا ہے۔ اس کی گفتگو، لباس، وقت کی پابندی، وعدے کی پاسداری، دوسروں کے ساتھ برتاؤ اور اختلاف کے وقت اس کا اندازِ گفتگو طلبہ کے لیے خاموش سبق بن جاتا ہے۔ بچے صرف وہ نہیں سیکھتے جو استاد انہیں پڑھاتا ہے بلکہ وہ بہت کچھ اس کے رویے سے بھی سیکھتے ہیں۔ اگر استاد غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو شاگرد بھی سیکھتا ہے کہ غلطی انسان سے ہوسکتی ہے مگر اسے تسلیم کرنا کردار کی خوبی ہے۔ اگر استاد اختلاف کے باوجود احترام قائم رکھتا ہے تو طالب علم بھی جان لیتا ہے کہ ہر مختلف رائے رکھنے والا شخص دشمن نہیں ہوتا۔
ایک استاد کے لیے سب سے بڑی آزمائش اس وقت آتی ہے جب اسے ایسے طالب علم کا سامنا ہو جو پڑھائی میں کمزور ہو، شرارتی ہو یا بار بار غلطی کرتا ہو۔ بعض اوقات ایسے بچوں کو آسانی سے نظرانداز کیا جاسکتا ہے مگر حقیقی استاد انہیں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ممکن ہے جس بچے کو آج سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے، وہی کل کسی میدان میں نمایاں مقام حاصل کرے۔ ایک چھوٹا سا حوصلہ افزا جملہ، ایک مناسب رہنمائی اور کسی استاد کی طرف سے ظاہر کیا گیا اعتماد بعض اوقات بچے کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔
استاد صرف ذہنوں کی تربیت نہیں کرتا، وہ احساسات کو بھی سمجھتا ہے۔ ایک طالب علم کبھی گھر کے حالات سے پریشان ہوتا ہے، کبھی مالی مشکلات اسے اندر سے توڑ رہی ہوتی ہیں، کبھی والدین کی توقعات اس پر بوجھ بن جاتی ہیں اور کبھی وہ دوسروں سے اپنا موازنہ کرتے کرتے خود کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ ایک حساس استاد ایسے بچے کے لیے صرف معلم نہیں رہتا بلکہ ایک محفوظ سایہ بن جاتا ہے۔ وہ چند الفاظ میں اسے یہ یقین دلا دیتا ہے کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ دوبارہ کوشش کا ایک موقع ہے۔
کتنے ہی طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو اپنے استاد کی ایک بات برسوں بعد بھی یاد رکھتے ہیں۔ ممکن ہے وہ پورا سبق بھول جائیں، کتاب کے صفحات ان کے ذہن سے محو ہوجائیں، امتحان میں حاصل کیے گئے نمبر بھی یاد نہ رہیں، مگر استاد کا کوئی ایک جملہ ان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ کبھی استاد نے کہا ہوتا ہے کہ ’’تم یہ کرسکتے ہو‘‘ اور وہی جملہ مشکل وقت میں انسان کے اندر ہمت پیدا کرتا ہے۔ کبھی استاد نے کہا ہوتا ہے کہ ’’سچ بولنے میں نقصان ہوسکتا ہے مگر عزت نہیں جاتی‘‘ اور وہ بات پوری زندگی کے لیے اصول بن جاتی ہے۔
استاد کی محنت کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جو عموماً لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ وہ صرف درس گاہ کے مقررہ اوقات میں کام نہیں کرتا۔ سبق کی تیاری، طلبہ کی کاپیاں دیکھنا، امتحانات کی تیاری، نتائج کا جائزہ، کمزور طلبہ پر اضافی توجہ اور اگلے دن کے لیے منصوبہ بندی اس کی ذمہ داریوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ وہ اپنی تھکن کو چھپا کر کلاس میں داخل ہوتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے سامنے بیٹھے بچوں کو اس کی پریشانی نہیں بلکہ اس کی توجہ درکار ہے۔
وقت کے ساتھ تعلیم کا انداز بھی بدل گیا ہے۔ آج معلومات حاصل کرنے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایک طالب علم چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی حصے کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتا ہے۔ کتابیں، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی علم تک رسائی آسان بنا چکے ہیں۔ مگر معلومات کی کثرت نے استاد کی ضرورت ختم نہیں کی بلکہ اس کی ذمہ داری کو ایک نئے انداز میں اہم بنا دیا ہے۔ معلومات تو بہت سے ذرائع سے مل سکتی ہیں مگر یہ فیصلہ کرنا کہ کون سی بات درست ہے، کس علم کو زندگی میں استعمال کرنا ہے اور علم کو کردار میں کیسے تبدیل کرنا ہے، اس کے لیے رہنمائی اب بھی ضروری ہے۔
آج کے دور میں استاد کو صرف کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ طالب علم کو معلومات کے ہجوم میں درست راستہ دکھانے والا رہنما بھی ہونا چاہیے۔ اسے اپنے شاگردوں کو یہ سکھانا ہے کہ ہر سنی سنائی بات حقیقت نہیں ہوتی، ہر دیکھی ہوئی چیز قابلِ اعتماد نہیں ہوتی اور ہر مقبول رائے درست نہیں ہوتی۔ سوال کرنا، تحقیق کرنا، دلیل کو سمجھنا اور اختلاف کے باوجود تہذیب برقرار رکھنا بھی تعلیم کا حصہ ہے۔
استاد اور شاگرد کا تعلق صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک استاد جب اپنے شاگرد کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے تو اس خوشی میں کسی ذاتی مفاد کی آمیزش ضروری نہیں ہوتی۔ اسے خوشی ہوتی ہے کہ جس پودے کو کبھی اس نے ایک چھوٹے سے بیج کی طرح دیکھا تھا، آج وہ تناور درخت بن رہا ہے۔ شاگرد ڈاکٹر بنے، انجینئر بنے، ادیب بنے، افسر بنے، تاجر بنے یا کسی عام پیشے سے وابستہ ہو، ایک استاد کے لیے اصل خوشی یہ ہوتی ہے کہ اس کا شاگرد اپنے علم کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرے۔
کبھی کبھی زندگی کے سفر میں برسوں بعد کوئی سابق طالب علم اپنے استاد کے سامنے آتا ہے۔ اب وہ بچہ نہیں رہتا۔ اس کے بالوں میں شاید سفیدی آچکی ہوتی ہے، اس کے پاس اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، مگر استاد اسے دیکھتے ہی اس کا پرانا نام لے کر پکار دیتا ہے۔ یہ استاد کی یادداشت نہیں بلکہ اس کے دل میں محفوظ شاگرد کی محبت ہوتی ہے۔ شاگرد بھی اس لمحے اپنے ماضی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اسے وہی کلاس، وہی تختی، وہی کتاب اور وہی آواز یاد آتی ہے جو کبھی اسے سبق سمجھایا کرتی تھی۔
استاد کی عظمت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شاگرد کو اپنے سے آگے بڑھتے دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ اپنی جگہ لینے والے سے خوف محسوس کرتے ہیں، مگر ایک حقیقی استاد چاہتا ہے کہ اس کا شاگرد اس سے بھی زیادہ کامیاب ہو۔ وہ اپنے علم کو چھپاتا نہیں بلکہ بانٹتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ علم بانٹنے سے کم نہیں ہوتا بلکہ اس کی روشنی بڑھتی ہے۔
ہمیں اپنے معاشرے میں استاد کے مقام پر بھی غور کرنا چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل باکردار، ذمہ دار، باعلم اور حساس ہو تو ہمیں ان لوگوں کی قدر بھی کرنا ہوگی جو ان ذہنوں کی تربیت کررہے ہیں۔ استاد سے صرف نتائج کی توقع رکھنا کافی نہیں، اسے عزت، اعتماد اور مناسب ماحول دینا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ ایک پریشان، غیر مطمئن اور مسلسل دباؤ میں رہنے والا استاد بھی آخر انسان ہے۔ اس کے دل میں بھی احساسات ہیں، اس کی اپنی مشکلات ہیں اور اسے بھی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
والدین اور استاد اگر ایک دوسرے کے مخالف فریق بن جائیں تو سب سے زیادہ نقصان بچے کا ہوتا ہے۔ بچے کی تربیت میں گھر اور درس گاہ دونوں کا کردار ہے۔ والدین بچے کو گھر میں اقدار دیتے ہیں اور استاد ان اقدار کو علم اور عملی تربیت کے ساتھ آگے بڑھاتا ہے۔ اگر دونوں ایک دوسرے کا احترام کریں اور بچے کی اصلاح کو مقصد بنائیں تو تعلیم صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ شخصیت سازی کا سفر بن جاتی ہے۔
استاد کی زندگی میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب اسے اپنے کسی شاگرد کی ناکامی کا دکھ ہوتا ہے۔ وہ شاید سب کے سامنے اس کا ذکر نہ کرے مگر دل میں سوچتا ہے کہ کہاں کمی رہ گئی۔ یہی احساس اس کے پیشے کو محض ملازمت سے بلند کرتا ہے۔ جس انسان کو اپنے شاگرد کی کامیابی اور ناکامی سے حقیقی طور پر فرق پڑتا ہو، وہ صرف تنخواہ کے لیے نہیں پڑھا رہا ہوتا بلکہ اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہوتا ہے۔
استاد دراصل مستقبل کے ساتھ کام کرتا ہے۔ آج وہ جس بچے کو پڑھا رہا ہے، وہ کل کسی گھر کا سربراہ ہوگا، کسی ادارے کا ذمہ دار ہوگا، کسی معاشرے کا حصہ ہوگا اور شاید سینکڑوں لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوگا۔ اس لیے استاد کا ایک درست کیا ہوا رویہ کئی زندگیوں میں پھیل سکتا ہے اور اس کی ایک غلطی بھی دور تک اثر ڈال سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کی ذمہ داری بہت بڑی ہے اور اس کی عظمت بھی اسی ذمہ داری سے وابستہ ہے۔
ایک اچھا استاد طالب علم کو صرف یہ نہیں سکھاتا کہ کتاب میں کیا لکھا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی میں کیا کرنا ہے۔ وہ اسے کامیابی کے ساتھ ناکامی کا سامنا کرنا، اختلاف کے ساتھ احترام رکھنا، اختیار کے ساتھ ذمہ داری نبھانا اور علم کے ساتھ عاجزی اختیار کرنا سکھاتا ہے۔ وہ بچے کو یہ احساس دیتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے، لباس یا دولت سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے۔
شاید استاد کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ جب شاگرد برسوں بعد دنیا کے ہجوم میں کہیں کھڑا ہو اور کسی مشکل فیصلے کے سامنے اسے اپنے استاد کی کوئی بات یاد آجائے تو وہ لمحہ استاد کی پوری محنت کا صلہ بن جاتا ہے۔ استاد شاید اس وقت وہاں موجود نہ ہو، اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس کے الفاظ نے کسی زندگی کو کس موڑ پر سہارا دیا، مگر اس کی دی ہوئی روشنی اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔
استاد واقعی چراغ کی مانند ہے۔ چراغ اپنے اردگرد روشنی بانٹتا ہے اور خود خاموشی سے جلتا رہتا ہے۔ استاد بھی اپنے علم، وقت اور توانائی سے کئی ذہنوں کو روشن کرتا ہے۔ اس کی محنت کا پھل ہمیشہ اسی وقت سامنے نہیں آتا۔ کبھی برسوں بعد کوئی شاگرد کامیاب ہوکر لوٹتا ہے، کبھی کوئی اچھا انسان بن کر معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے اور کبھی استاد کی کہی ہوئی ایک بات کسی انسان کو غلط راستے سے واپس لے آتی ہے۔
اسی لیے استاد کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ ہمیں پڑھاتا ہے بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ وہ ہماری شخصیت میں وہ کچھ شامل کر جاتا ہے جو شاید ہم خود بھی اپنے اندر تلاش نہیں کر پاتے۔ وہ ہمارے ہاتھ میں قلم دیتا ہے، ذہن میں سوال پیدا کرتا ہے، سوچ کو سمت دیتا ہے اور کردار کو آئینہ دکھاتا ہے۔
دنیا میں عمارتیں بنانے والے بہت ہیں، راستے بنانے والے بھی بہت ہیں، مگر انسان بنانے والے کم ہوتے ہیں۔ استاد انہی لوگوں میں سے ایک ہے۔ اس کے ہاتھ میں موجود کتاب بظاہر چند صفحات کا مجموعہ ہوتی ہے مگر اس کے اندر کئی زندگیوں کے امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ وہ ایک نسل کو پڑھاتا ہے اور دراصل آنے والی کئی نسلوں کی بنیاد رکھتا ہے۔
اس لیے استاد کا احترام صرف ایک فرد کا احترام نہیں بلکہ علم، تربیت اور مستقبل کا احترام ہے۔ جس معاشرے میں استاد کی قدر ہوتی ہے وہاں علم کی قدر ہوتی ہے، اور جہاں علم کی قدر ہو وہاں انسان کے بہتر مستقبل کی امید باقی رہتی ہے۔ استاد واقعی کردار کا معمار ہے، کیونکہ وہ اینٹ اور پتھر سے نہیں بلکہ علم، تربیت، محبت، صبر اور اپنے کردار سے انسان کی تعمیر کرتا ہے۔