استاد کی اہمیت اور اج کا بدلتا ہوا دور

روبینہ شاہین 
استاد  . ٹیچر .  سر پڑھانے والا علم سکھانے والا زندگی میں جینے کے راستے بتانے والا وقت کی اہمیت بتانے والا قلم سے لکھنے کا عمل سکھانے والا لفظوں کو صفحوں پر بکھیرنے کا گر سکھانے والا کتاب کی علم کو لفظوں کی چاشنی میں گھول کر دل و دماغ میں اتارنے والا معمار بنانے والا ڈاکٹر انجینیئر ادیب  شاعر اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں با عمل بنانے والا ایک عظیم درجے پر پہنچانے والا ہدایت کا چراغ بن کر جاہلیت مٹانے والا سچ اور جھوٹ کا فرق بتانے والا ایک ایسی شخصیت کا نام کہ جب بچہ بولنا سیکھے تو سیدھا سکول جاتا ہے اور کالج یونیورسٹی کی دنیا عبور کرتا ہوا عملی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے استاد جو خود بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بناتا ہے خود فوجی.  ہوتا نہیں مگر فوجی بناتا ہے سونا بھٹی سے نکل کر کندن بنتا ہے انسان استاد کے پروں سے نکل کر پرواز کرتا ہے دنیا میں جتنے بھی شعبے ہیں ہر انسان کی پرواز استاد کی مرہون منت ہے فن علم کا ہو یا ہنر کا لکھنے کا ہو یا پڑھنے کا جہاز اڑانے کا ہو یا گاڑی چلانے کا حکومت چلانے کا ہو یا گھر چلانے کا سب ایک استاد کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے 

ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کوئی استاد نہیں تھا مگر اپ پوری کائنات کے استاد بنائے گئے علم سیکھے اور سکھائے گئے دنیا کے بہترین استاد کے مثال ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہے باقی استاد تو صرف مثالی زمرے میں اتے ہیں روش بدلتے اس زمانے میں یہ ہم نے اس قابل قدر اور اہل ہستی کی اہمیت کو کم کر دیا ہے انٹرنیٹ کے اس دور میں جہاں ہم نے رشتوں کی اہمیت کھوئی ہے وہاں ہم نے استاد جیسے رشتے کو بھی غیر اہم قرار دے دیا ہے اے آئی کی دنیا جو علم کا خزانہ بنتی جا رہی ہے صرف سوالوں کے جواب دے سکتی ہے کسی مثالی انسان کا خاکہ پیش نہیں کر سکتی استاد کی شخصیت جو علم اور عمل کے لحاظ سے زندگی کے بہت سے ادوار بدل دیتی ہے ایک لفظ جو حواس پر مرتے دم تک چھایا رہتا تھا مگر اب بچے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اے ائی سے سوال کا جواب لے کر پوری دنیا فتح کر لی ہے حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں اپ سفر.  کرو تو ہر قدم پر اونچ نیچ برداشت کرتے ہو مسافت کی تنگی آسانی تجربہ اور جب اگلی نسل کو اپنے تجربات بتا رہی ہوتی ہو تو وہ تمام تجربات مشاہدات اپ کی گفتگو کا حصہ ہوتے ہیں اپ نے کیا دیکھا کیا سنا کیا محسوس کیا اپ نے کیا نچوڑ نکالا ایک مکمل سکیچ خاکہ شاگرد کو بتاتے ہو کیا اے ائی کے  سوالوں کے جواب میں ان تمام باتوں کے جواب با عمل موجود ہوتے ہیں. جو ہم استاد سے پوچھنے کی بجائے اے ائی سے پوچھ رہے ہوتے ہیں اج کے دور میں ہم اسانیوں کے راستے تلاش کرتے ہیں خود ساختہ منزلیں تصور کرتے ہیں بیٹھے بٹھائے ساری مسافت طے کرتے ہیں اور خود کو دنیا کا عقلمند ترین انسان تصور کرتے ہیں جیسے کبھی چینی ایجاد ہوئی تو لوگ پاگل ہو گیا ہر انسان میٹھے کا دیوانہ شوگر کا مریض بن گیا ایوڈائز نمک کس کو بلڈ پریشر نہیں ڈالڈا گھی کولیسٹرول کا ہر کوئی مریض ہے اسی طرح اج جو علم کا دریا استاد سے اے ائی کی طرف دوڑا جا رہا ہے یہ انے والا کل بتائے گا کہ ہم نے کیا کھویا کیا پایا استاد کا مقام بھی گڑ شکر اور دیسی گھی جیسا ہے جس کی اہمیت کسی دور میں کم نہیں ہوئی اور اس.  کا کوئی نعم البدل بھی نہیں زندگی کو ایک خاص اور خالص جذبوں عملوں اور خیالات سے سرشار کرتا ہے جو وقت کے ساتھ ایسے شاہکار تعمیر کرتا ہے جس کی کوئی مثال نہیں اج بھی خدارا اپنے بچوں کو کی اہمیت سے اگاہ کیجئے اچھے استاد اچھے انسان تعمیر کرتا ہے اچھے استاد اچھے شاگرد کے اچھے شاگرد بنائیے تاکہ انے والے وقت میں خوبصورت مستقبل بن کر اپ کی زندگی کو تابناک بنا سکے استاد علم کا سمندر ہوتا ہے بچے کو علم سے سیراب ہونے دیں کہیں ایسا نہ ہو کہ انے والے وقت میں اج کی نسل ہمیں شوگر بی پی اور کولیسٹرول جیسی بیماری کی کسی نئی شکل میں ملے اسے دیسی گھی بننے میں مدد دیں اور استاد اور شاگرد کا رشتہ بحال رہنے دیں.