وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
اس نوٹیفکیشن کے مطابق، وزارت داخلہ کا موقف ہے کہ ٹی ایل پی دہشت گردی میں ملوث ہے، اور اسی لیے اسے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے۔اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس ٹھوس وجوہات موجود ہیں کہ تنظیم کے تانے بانے دہشت گردی سے جُڑے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل، گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی تھی، جس کی منظوری وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت ایک اجلاس میں دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 2016 سے قائم یہ تنظیم ملک بھر میں شر انگیزی کو فروغ دیتی رہی ہے، اور ماضی میں اس کے پُرتشدد احتجاجی جلسوں اور ریلیوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ تنظیم کی وجہ سے مختلف حصوں میں شرانگیزی کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔وفاقی حکومت کا یہ اقدام ملک میں امن و امان کے قیام اور شرپسندی کو روکنے کے لیے ایک اہم فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔