پنجاب کابینہ نے اہم فیصلے کرتے ہوئے کالعدم تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔
اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ مریم نواز نے کی، جس میں کہا گیا کہ صوبے میں انتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، کابینہ نے ملتان، راولپنڈی اور لاہور میں الیکٹرانک بسوں کے کرایوں میں اضافے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔کابینہ نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025ء اور لاہور-راولپنڈی ہائی اسپیڈ ریل منصوبے کے لیے ایم او یو کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ، سرکاری اسکولوں میں اسکول ٹیچرز انٹرن کی بھرتی اور ہائی ٹیک فارم میکنائزیشن فنانس پروگرام کے تحت سبسڈی پروگرام کی منظوری بھی دی گئی ہے۔بریفنگ کے مطابق، ہائی ٹیک فارم میکنائزیشن پروگرام کے لیے 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، اور سپر سیڈر سمیت دیگر جدید آلات 60 فیصد سبسڈی پر فراہم کیے جائیں گے۔ کسان کارڈ فیز 2 کے تحت 100 ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں، اور پچھلے فیز سے 70 ارب کی ریکارڈ ریکوری ہوئی ہے۔ کسان کارڈ سے قرض کی واپسی پر 24 گھنٹے کے اندر دوسرے فیز کے پیسے بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
کابینہ نے لاہور سے راولپنڈی تک ہائی اسپیڈ ریل کے لیے ایم او یو کی منظوری دی، اور ایئر پنجاب پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے قیام کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ پرائم منسٹر کیش لیس اسٹرٹیجی کے تحت ریٹیلرز کے لیے کیو آر کوڈ کی منظوری دی گئی ہے، اور محراب محفوظ روشن پنجاب پروگرام کی منظوری بھی دی گئی ہے۔مزید برآں، مصر کے ساتھ زرعی اشتراک کار کے لیے ایم او یو کی منظوری دی گئی ہے، اور پنجاب سینٹر آف ایکسیلینس انسداد تشدد و انتہا پسندی کے بورڈ آف گورنر کی تشکیل کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ ٹریفک جرمانہ اور پوائنٹ سسٹم کی مجوزہ سمری کی منظوری دی گئی ہے، اور نیشنل بینک پارک میں میوزیم اور یادگار تعمیر کرنے کے لیے فنڈز کی منظوری کے ساتھ، میوزیم کی بحالی، بہتری اور اپ گریڈیشن کے لیے ماسٹر پلان بھی منظور کیا گیا ہے۔