دودھ کے بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے کیونکہ دودھ فارمرز اور دودھ فروش یونین کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔
اس تنازع کی بنیادی وجہ دودھ کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور مارکیٹ میں قیمتوں کے تعین سے متعلق ہے۔ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے یکم نومبر سے دودھ کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر تک اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے مطابق، بھینس کے دودھ کی ہول سیل قیمت 240 روپے جبکہ گائے کے دودھ کی ہول سیل قیمت 195 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس اضافے کے بعد، پرچون نرخ تقریباً 270 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو کہ سرکاری نرخنامہ 170 روپے فی لیٹر سے کہیں زیادہ ہے، یعنی مارکیٹ اور سرکاری نرخ میں تقریباً 100 روپے فی لیٹر کا فرق پیدا ہو گیا ہے۔دوسری جانب، دودھ فروش یونین نے اس اضافے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو وہ دودھ کی سپلائی بند کر دیں گے، جس سے شہر میں دودھ کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔
مزید برآں، شہریوں کو خدشہ ہے کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو دودھ کی کمی اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ضلعی انتظامیہ تاحال اس معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جس سے صورتحال مزید نازک ہوتی جا رہی ہے۔مجموعی طور پر، یہ صورتحال شہر میں دودھ کی فراہمی کے حوالے سے اہم مسئلہ بن چکی ہے، اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ بحران سے بچا جا سکے۔