دودھ کی قیمتوں میں پھر سے بڑا اضافہ، صارفین کے لیے پریشانی بڑھ گئی

دودھ کی قیمتوں میں پھر سے بڑا اضافہ، صارفین کے لیے پریشانی بڑھ گئی

 دودھ کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، حالانکہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ نرخنامہ اب تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکا ہے۔

گزشتہ 6 ماہ کے دوران یہ دوسرا بڑا اضافہ ہے، اس سے قبل مئی میں بھی خود سے 10 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔ڈیری فارمرز نے یکم نومبر سے نئی قیمتوں کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت بھینس اور گائے کے دودھ کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ بھینس کے دودھ کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ہول سیل قیمت 240 روپے فی لیٹر اور پرچون قیمت 270 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ گائے کے دودھ کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، اب ہول سیل قیمت 190 روپے اور پرچون قیمت 210 روپے فی لیٹر ہے۔ اسی طرح، مکس دودھ کا ہول سیل ریٹ 218 روپے اور پرچون ریٹ 240 روپے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر کے نرخنامے کے مطابق، دودھ کا سرکاری نرخ اب بھی 170 روپے فی لیٹر ہے، مگر نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد سرکاری اور مارکیٹ نرخ میں فرق 100 روپے فی لیٹر تک پہنچ جائے گا، جو صارفین کے لیے مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔