لائیوسٹاک کارڈ فیز ٹو کا ڈیجیٹل افتتاح، فارمرز کو 16 ارب 20 کروڑ روپے کے بلاسود قرضوں کی فراہمی ہوگی

لائیوسٹاک کارڈ فیز ٹو کا ڈیجیٹل افتتاح، فارمرز کو 16 ارب 20 کروڑ روپے کے بلاسود قرضوں کی فراہمی ہوگی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کارڈ سوائپ کرکے لائیوسٹاک کارڈ فیز ٹو کا ڈیجیٹل افتتاح کر دیا۔

اس موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب میں محکمہ لائیوسٹاک سے متعلق دستاویزی فلم پیش کی گئی، جبکہ وزیر لائیوسٹاک عاشق حسین کرمانی اور سیکرٹری لائیوسٹاک احمد عزیز تارڑ نے اسکیم کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ لائیوسٹاک کارڈ کے تحت فارمرز کو فی مویشی 27 ہزار روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا۔ اس رقم سے ونڈا، سائیلیج اور منرل مکسچر سمیت جانوروں کی خوراک کے لیے ضروری اشیا خریدی جا سکیں گی۔ اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 16 ارب 20 کروڑ روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔حکام کے مطابق فارمرز کو قرض کی صرف اصل رقم واپس کرنا ہوگی، جبکہ سود حکومت پنجاب برداشت کرے گی۔ اس کے علاوہ فارمرز قرض کی 25 فیصد رقم اے ٹی ایم کے ذریعے نقد بھی حاصل کر سکیں گے۔اسکیم میں مویشیوں کی مفت ٹیگنگ اور فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز (ایف ایم ڈی) سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کی سہولت بھی شامل ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے لائیوسٹاک کارڈ فیز ون کی ریکوری کا تناسب 96 فیصد ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں اب تک فارمرز کے لیے 23 ہزار 312 لائیوسٹاک کارڈ تیار کیے جا چکے ہیں، جبکہ ایک ہزار 739 فارمرز نے ان کارڈز کے ذریعے 70 ہزار سے زائد ٹرانزیکشنز کیں۔تقریب میں پنجاب سے گوشت اور مویشیوں کی برآمدات بڑھانے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت نے 8 ایکسپورٹرز کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔حکام نے بتایا کہ پنجاب سے مویشیوں کی برآمدات میں 43 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایک سال کے دوران گوشت کی برآمدات میں 9 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔حکام کے مطابق لائیوسٹاک کارڈ فیز ٹو کا مقصد فارمرز کو جانوروں کی خوراک اور بہتر نگہداشت کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا، مویشیوں کی صحت بہتر بنانا اور صوبے میں لائیوسٹاک کے شعبے کو فروغ دینا ہے۔