سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی جانب سے کراچی میں جاری ترقیاتی اور بنیادی سہولیات کے منصوبوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی رپورٹ ہے۔
اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
فنڈز کی دستیابی: مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ فنڈز کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اُنہیں شہریوں کے لیے فوری اور معیاری کام کی ضرورت ہے۔
اجلاس کا مقصد: یہ اجلاس کراچی کی سڑکوں، گلیوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر نو کے حوالے سے منعقد ہوا، جس میں متعلقہ حکام اور میئر کراچی بھی شریک ہوئے۔
کراچی کی موجودہ صورتحال: وزیراعلیٰ نے کہا کہ شدید بارشوں کے بعد کراچی کی سڑکیں زبوں حالی کا شکار ہیں اور جاری میگا پروجیکٹس کی وجہ سے بھی ٹریفک کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے شہر میں ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے پر زور دیا تاکہ شہریوں کو تکلیف سے بچایا جا سکے۔
گلیوں اور سڑکوں کی مرمت: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ شہر کی 315 اندرونی گلیاں اور 60 اہم سڑکیں دوبارہ تعمیر ہونی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ تمام اسکیمیں منظور کر کے فوری عملدرآمد کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کا موثر نظام بھی قائم کیا جائے۔
ترقیاتی لاگت اور مالیاتی صورتحال: میئر نے بتایا کہ کراچی کے ترقیاتی کاموں کا تخمینہ 25 ارب روپے ہے، جس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ فنڈز کی کمی نہیں، عوام کی سہولت کے لیے معیاری کام ہونا ضروری ہے۔
پروجیکٹس کی کامیابی: وزیراعلیٰ نے کیماڑی میں آر او پلانٹس کے افتتاح پر مبارکباد دی اور کہا کہ عوام کے لیے صاف پانی، بہتر سڑکیں اور امن و امان کو یقینی بنانا اہم ہے۔ انہوں نے سندھ سیف سٹی پروجیکٹ کی شروعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے ٹریفک حادثات میں کمی آئی ہے۔
مجموعی طور پر، وزیراعلیٰ سندھ کا یہ اجلاس کراچی کی ترقی، صفائی، ٹریفک اور شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار ہے، جس میں فنڈز کی دستیابی کے ساتھ ساتھ فوری اور معیاری کام پر زور دیا گیا ہے