بھارت کو شکست ہو چکی، مگر جارحیت سے باز نہیں آ رہا: حافظ نعیم الرحمٰن

بھارت کو شکست ہو چکی، مگر جارحیت سے باز نہیں آ رہا: حافظ نعیم الرحمٰن

کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت، اسرائیل، اور ملکی مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ "سب کو معلوم ہے بھارت پٹ چکا ہے مگر باز نہیں آ رہا، بھارت کو ہم نے میدان میں پیچھے دھکیلا ہے، جو بھارت کر رہا ہے وہی اسرائیل بھی کر رہا ہے۔"حافظ نعیم نے عالمی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں حالیہ سروے کے مطابق 50 فیصد لوگ اسرائیل کے خلاف ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کی رائے تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہماری پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی ہے اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ فلسطینیوں کے لیے آگے بڑھ کر مدد کریں۔"انہوں نے اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں امداد بند کر دی گئی ہے اور صرف 30 سے 40 ٹرکس ہی وہاں پہنچ رہے ہیں، جبکہ لوگ بھوک اور بمباری سے مر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دنیا کو فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان کی ایئر فورس کو دنیا کی بہترین فورسز میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ قوم ہمیشہ جنگ کے وقت متحد رہی ہے۔

بھارت کا کردار اور اندرونی سیکیورٹی خدشات:

انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت خیبر پختونخوا میں بے امنی پھیلا رہا ہے، اور خضدار جیسے علاقوں میں حملے ہو رہے ہیں جن میں معصوم بچے بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنے ہی لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں؟"انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان عناصر سے مذاکرات کرے اور ملک میں تفریق و تقسیم کو ختم کرنے کی ذمہ داری نبھائے۔

معاشی مشکلات اور شہری مسائل پر بات:

حافظ نعیم نے معاشی حالات پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ پس رہا ہے۔ ایک لاکھ بیس ہزار روپے تک کی تنخواہ کو ٹیکس فری ہونا چاہیے، بجلی کے نرخ کم کیے جائیں، اور پیٹرول پر لیوی ختم کی جائے۔"کراچی کے شہری مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو درست نہیں گنا گیا، شہر شدید لوڈشیڈنگ کا شکار ہے، اور کے-الیکٹرک سب سے مہنگی بجلی فراہم کر رہا ہے۔ حافظ نعیم نے بتایا کہ کراچی میں دو دن کے دوران عوام سے ملنے کے دوران سب سے زیادہ شکایات بجلی اور پانی کی قلت کے بارے میں آئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ 15،15 ہزار روپے دے کر پانی کے ٹینکر لینے پر مجبور ہیں، اور غیر قانونی طریقے سے پورے علاقوں کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے، جو شہریوں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔

خلاصہ:

حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس میں خارجہ پالیسی، داخلی سلامتی، معاشی استحکام، اور شہری سہولیات کے تمام اہم پہلو زیر بحث آئے۔ ان کے بیانات نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ملک کو داخلی استحکام، عوامی ریلیف، اور بین الاقوامی سطح پر موثر موقف کی اشد ضرورت ہے۔