ویب ڈیسک:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے شہریوں پر مہنگائی کا نیا وار کر دیا گیا۔
اورنج، گرین، بلیو لائن میٹرو بس اور الیکٹرک بس سروس کے کرایوں میں دو گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
کرایوں میں نیا اضافہ
سابقہ کرایہ: 50 روپے
نیا کرایہ: 100 روپے
کرایوں میں اضافے کا اطلاق پیر (سوموار) سے ہو گا۔ نئی شرح تمام لائنوں پر یکساں طور پر لاگو ہو گی۔
شہریوں کا شدید ردعمل
شہریوں کی بڑی تعداد نے اس فیصلے پر تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا ہے۔مسافروں کا کہنا ہے کہ:"ہم پہلے ہی بجلی، گیس، پیٹرول اور کھانے پینے کی اشیاء کی مہنگائی سے پریشان ہیں، اب سفر بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔"کئی طلبہ، ملازمین اور کم آمدنی والے افراد نے سستی پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کر رکھا تھا، لیکن کرایوں میں اضافہ ان کے لیے مزید مالی بوجھ بنے گا۔
حکومتی مؤقف اور متوقع اثرات
تاحال حکومتی یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کے مطابق کرایوں میں اضافے کی وجہ:
بس آپریٹنگ لاگت میں اضافہ
ایندھن و مرمت کے اخراجات
بتائی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے:
سڑکوں پر نجی گاڑیوں کا دباؤ بڑھے گا۔
ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پس منظر
اسلام آباد کی میٹرو بس سروسز کو عوام کی سہولت کے لیے کم کرایہ اور سبسڈی پر چلایا جا رہا تھا، تاہم مالی دباؤ کے باعث خسارے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
نتیجہ:
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور کم آمدنی والے افراد کے لیے رعایتی کرایوں کا نظام متعارف کرائے تاکہ مہنگائی کے دور میں کچھ ریلیف ممکن ہو۔