کراچی کے علاقے ملیر سٹی، بچل گوٹھ، کھوکھراپار چمن کالونی میں ایک المناک واقعہ پیش آیا، جہاں 15 سالہ نصرت بی بی کو غلط انجیکشن لگنے کے بعد جاں بحق ہونے کے مقدمے میں ڈاکٹر رشید، اس کے داماد امجد اور بیٹی کو گرفتار کر لیا گیا۔
واقعے کی تفصیلات:
مقتولہ کے والد واحد بخش کے مطابق، ان کی بیٹی کی طبیعت خراب ہونے پر وہ اپنی بیوی کے ہمراہ ڈاکٹر رشید کے کلینک گئے۔
کلینک پر غلط انجیکشن لگنے کے بعد نصرت بی بی کی حالت بگڑ گئی، اور جب والد کلینک پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ بیٹی کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔
ڈاکٹر رشید، اس کا داماد امجد اور بیٹی موقع پر موجود تھے، لیکن انہوں نے فوری طور پر کوئی مناسب طبی امداد نہیں دی۔
جب والد دوا لینے گئے، تو واپسی پر انہیں معلوم ہوا کہ ان کی بیٹی انتقال کر چکی ہے۔
پولیس کارروائی:
والد کی شکایت پر ملیر پولیس نے قتل بالسبب اور غفلت و لاپرواہی کے تحت مقدمہ درج کیا۔
ڈاکٹر رشید، اس کا داماد امجد اور بیٹی (جو کلینک اسٹاف کے طور پر کام کرتے تھے) کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس نے ڈاکٹر اور اسٹاف کی اسناد کی جانچ شروع کر دی ہے، کیونکہ ابتدائی تحقیقات میں غیر معیاری ادویات اور غیر تربیت یافتہ عملے کا انکشاف ہوا ہے۔
مزید تحقیقات جاری:
پولیس نے کلینک سے دستاویزات اور ادویات ضبط کر لی ہیں۔
میڈیکل بورڈ سے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے، جو موت کی اصل وجہ کی تصدیق کرے گی۔
عین ممکن ہے کہ یہ واقعہ جعلی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ کلینکس کے خلاف بڑی کارروائی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔
والدین کا ردعمل:
مقتولہ کے والدین نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اور اس کے ساتھیوں کو سخت سزا دی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔یہ واقعہ کراچی میں غیر معیاری طبی سہولیات اور نااہل ڈاکٹروں کے خلاف سوالات اٹھاتا ہے۔ پولیس نے ایسے غیر رجسٹرڈ کلینکس کے خلاف مزید کارروائی کا اعلان کیا ہے۔