کراچی اور بلوچستان میں حالیہ کارروائیوں کے دوران پاکستانی حکام نے بڑی مقدار میں منشیات اور غیرملکی شراب برآمد کی ہے۔
یہ کارروائیاں پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ اور پاکستان کوسٹ گارڈز کی جانب سے کی گئیں، جن کا مقصد اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں پیش رفت کرنا تھا۔
کراچی میں چرس کی برآمد:
پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ نے کراچی میں ایک کارروائی کے دوران بلوچستان سے چرس اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی۔ ڈپٹی کلکٹر کسٹمز رضا نقوی کے مطابق، خفیہ معلومات کی بنیاد پر کسٹم حکام نے ناردرن بائی پاس کے قریب ایک مشکوک کرولا کار کو روکنے کی کوشش کی۔ تاہم، ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر فرار ہو گیا۔گاڑی کی تلاشی کے دوران 84.5 کلوگرام چرس برآمد ہوئی، جس کی مالیت تقریباً 1 کروڑ 42 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، گاڑی کی مالیت 50 لاکھ روپے ہے۔ حکام نے گاڑی اور منشیات کو ضبط کر لیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
بلوچستان میں غیرملکی شراب کی برآمد:
دوسری جانب، پاکستان کوسٹ گارڈز نے بلوچستان کے علاقے گڈانی میں ایک اور کارروائی کی۔ اس کارروائی کے دوران 575 بوتلیں اعلیٰ کوالٹی کی غیرملکی شراب اور 582 کین بیئر برآمد کی گئیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ شراب اندرون ملک اسمگل کی جا رہی تھی۔ برآمد شدہ شراب کی عالمی مارکیٹ میں مالیت تقریباً 2.5 ملین روپے بتائی گئی ہے۔ تمام برآمد شدہ اشیاء کو ضبط کر لیا گیا ہے اور قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
مجموعی صورتحال:
ان کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی حکام اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں۔ چرس اور شراب کی برآمد سے نہ صرف منشیات کی تجارت کو روکنے میں مدد ملے گی، بلکہ یہ اقدامات ملک میں قانون کی بالادستی کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسمگلنگ کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور ملک میں غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔