وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن پر تنقید کے ساتھ مفاہمت کا پیغام بھی دیا اور کہا کہ اپوزیشن ماضی کی تلخیاں بھلا کر ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر متفق ہو۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا وہ احترام کرتے ہیں، تاہم وہ تحریک انصاف کے ارکان کے درمیان بیٹھے “عجیب و غریب” لگتے ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ماضی کی تلخیاں، محاذ آرائیاں اور غلطیاں سب کے سامنے ہیں، مگر وقت نے ثابت کیا کہ سیاسی قوتوں کو بالآخر جمہوری عمل اور پارلیمانی نظام کے استحکام کے لیے ایک دوسرے کے قریب آنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی کی سیاست کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اس دوران سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید کشیدگی رہی، مگر بعد ازاں سیاسی قیادت نے حالات سے سبق سیکھا اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے مشترکہ راستہ اختیار کیا۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ماضی کی تلخیوں کے باوجود میثاقِ جمہوریت کیا، جس کے نتیجے میں سیاسی ماحول میں بہتری آئی اور باہمی تعلقات میں بھی مثبت تبدیلی آئی۔ ان کے بقول، “ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گی اور دوسروں سے بھی، لیکن ہم نے ماضی سے سیکھا۔” انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج بھی سیاسی جماعتیں ماضی کی غلطیاں دہرانے کے بجائے ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر متفق ہو جائیں تو پارلیمان کا ماحول بہتر ہو سکتا ہے اور جمہوری عمل مضبوط ہو سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اسی ایوان میں ماضی میں سخت کشیدگی بھی دیکھی گئی، ارکان ایک دوسرے سے دست و گریباں بھی ہوئے، لیکن بعد میں سیاسی قیادت نے تحمل اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے شہید بے نظیر بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ میثاقِ جمہوریت کے بعد سیاسی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔ وزیر دفاع کے مطابق آج بھی اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ ماضی کے کارنامے یاد رکھے مگر آگے بڑھنے کے لیے مفاہمت اور جمہوری استحکام کی راہ اپنائے۔انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ سیاسی رویے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کل خود اپوزیشن لیڈر کے پاس گئے، حالانکہ ماضی میں اس نوعیت کے سیاسی رابطے کم ہی دیکھنے میں آتے تھے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت سیاسی مکالمے اور جمہوری روایات کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ ایوان کا تقدس برقرار رکھنا ہر رکن کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور پارلیمان کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قومی مسائل کے حل کا مرکز بننا چاہیے۔
وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں پاکستان تحریک انصاف کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئین اور جمہوری روایات کو جتنا نقصان بانی پی ٹی آئی نے پہنچایا، اتنا شاید کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف خود جمہوریت کی بات کرتی ہے، مگر اس کی اپنی جماعت کے اندر جمہوری روایات موجود نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں اس جماعت کے اراکین حکومت اور اپوزیشن کے ارکان سے آزادانہ بات چیت بھی نہیں کرتے تھے، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا تھا کہ کہیں پارٹی قیادت ناراض نہ ہو جائے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے پارلیمانی سیاست، جمہوری روایات اور سیاسی برداشت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق ایک ایسی جماعت جو صرف ایک فرد کے گرد گھومتی ہو، وہ حقیقی معنوں میں جمہوری جماعت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو ادارہ جاتی بنیادوں، مشاورت اور جمہوری روایت کے ساتھ چلنا چاہیے، محض ایک شخصیت کے تابع ہو کر سیاست کرنے سے جمہوری کلچر کمزور ہوتا ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر وزیر دفاع نے ایک بار پھر محمود خان اچکزئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں، مگر انہیں پی ٹی آئی کے درمیان بیٹھا دیکھ کر عجیب محسوس ہوتا ہے۔ ان کے اس جملے پر ایوان میں سیاسی اور دلچسپ ماحول پیدا ہوگیا۔ خواجہ آصف کے خطاب کو ایک طرف اپوزیشن پر سخت تنقید اور دوسری طرف سیاسی مفاہمت کی دعوت کے امتزاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے ایک نئے میثاقِ جمہوریت کی ضرورت پر زور دیا۔