وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں لیڈر آف اپوزیشن محمود خان اچکزئی کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں اچکزئی نے پاکستانی فوج کو “چار ضلعوں کی فوج” قرار دیا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول موقف ہے، کیونکہ پاک فوج ایک وفاقی ادارہ ہے اور کسی صوبے یا ضلع تک محدود نہیں۔خواجہ آصف نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال میں 3,141 فوجی شہید ہوئے اور ہر صوبے کے افسران اور جوان دہشت گردی کے خلاف اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 200 سے زائد دہشت گرد مارے گئے اور پاکستانی فوج اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی قربانی دے رہی ہے۔
وزیر دفاع نے پاک فوج میں صوبائی نمائندگی کے اعداد و شمار بھی ایوان میں پیش کیے:
پنجاب: 51.1 فیصد
سندھ: 20.52 فیصد
خیبرپختونخوا: 16.28 فیصد
بلوچستان: 6.04 فیصد
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان: 2.4 فیصد
اقلیتیں: 3.52 فیصد
خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج کسی ایک علاقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی فوج ہے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر صوبے کی قربانیوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ کہنا خام خیالی ہے اور ہم افغانستان کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاستدان گرے ایریاز میں رہ کر مفادات کے لیے لڑ سکتے ہیں، لیکن شہداء نے کبھی اپنی پارٹی یا صوبہ نہیں بدلا، اور فوج اپنے خون سے وطن کی خدمت کر رہی ہے۔