عالمی تنازعات کا ذمہ دار امریکا، ایٹمی طاقت برقرار رکھنا ناگزیر ہے: شمالی کوریا کے رہنما

عالمی تنازعات کا ذمہ دار امریکا، ایٹمی طاقت برقرار رکھنا ناگزیر ہے: شمالی کوریا کے رہنما

کم جونگ ان نے کہا ہے کہ عالمی تنازعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ملک کو ایک جوہری ریاست کے طور پر برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمراں ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ عالمی سلامتی کی صورتحال میں شمالی کوریا کے لیے اپنی جوہری صلاحیت کو برقرار رکھنا ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں اس وقت “ناقابلِ تصور اور حیران کن واقعات” رونما ہو رہے ہیں جن کے پیچھے بڑی طاقتوں کے جارحانہ اور مفاد پرستانہ رویے کارفرما ہیں۔ ان کے مطابق یہی رویے عالمی سطح پر تنازعات اور تصادم کو مزید بڑھا رہے ہیں۔کم جونگ اُن نے خاص طور پر  امریکا  پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن دنیا میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی جنوبی کوریا پر بھی الزام لگایا کہ وہ امریکہ کے اتھ مل کر اپنی مشترکہ دفاعی اور جوہری پالیسیوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، جس سے جزیرہ نما کوریا کی صورتحال خطرناک ہو رہی ہے۔شمالی کوریا کے رہنما کے مطابق ان اقدامات کا اصل مقصد پیونگ یانگ پر دباؤ ڈالنا اور ممکنہ طور پر اسے نشانہ بنانا ہے، اسی لیے ملک کے دفاعی نظام کو مضبوط رکھنا ضروری ہے۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کی یہ پالیسی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں اور دفاعی تعاون بھی اس صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔دوسری جانب عالمی سطح پر کئی ممالک شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اسے علاقائی و عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم پیونگ یانگ مسلسل اپنے دفاعی مؤقف پر قائم ہے اور اسے “بقا کی ضمانت” قرار دیتا ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتوں کے درمیان جغرافیائی کشمکش اور عسکری اتحاد مزید مضبوط ہو رہے ہیں، جس سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی برقرار ہے۔