کے پی بجٹ کی منظوری میں جلد بازی کی گئی، 30 جون تک انتظار ممکن تھا: سلمان اکرم راجہ

کے پی بجٹ کی منظوری میں جلد بازی کی گئی، 30 جون تک انتظار ممکن تھا: سلمان اکرم راجہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینئر وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کا بجٹ 23 جون کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا، اس پر مزید مشاورت کی جا سکتی تھی اور بانی تحریک انصاف (عمران خان) سے رہنمائی حاصل کرنا ممکن تھا اگر وقت دیا جاتا۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"ہم سمجھتے ہیں کہ کے پی بجٹ کی منظوری میں عجلت سے کام لیا گیا۔""30 جون تک وقت تھا، ہم تب تک بجٹ روک سکتے تھے۔""امکان تھا کہ آج (24 جون) بانی تحریک انصاف سے کوئی واضح ہدایات مل جاتیں، مگر وہ موقع ضائع کر دیا گیا۔""پارٹی میں اب سوالات اٹھ رہے ہیں کہ بجٹ کو 23 تاریخ کو ہی کیوں پاس کیا گیا؟"
ملاقاتوں پر پابندی اور عدالتی احکامات
انہوں نے مزید کہا:"25 مارچ کے بعد عمران خان سے میری صرف دو ملاقاتیں ہوئیں۔""ملاقات نہ کرانا سوچی سمجھی سازش ہے، عمران خان کے بنیادی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔""عدالتی احکامات کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے، عدالتیں خود بھی اپنے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کروا رہیں۔"
وکالت سے روکنے کا الزام
سلمان اکرم راجہ نے الزام عائد کیا کہ:"جن مقدمات میں میں عمران خان کا وکیل ہوں، ان میں بھی مجھے پیش نہیں ہونے دیا جاتا۔""لاہور میں 9 مئی کے کیسز میں بانی کی ضمانت منسوخی پر افسوس ہے۔"
مستقبل کا لائحہ عمل
بیرسٹر راجہ کا کہنا تھا:"ہم سپریم کورٹ جائیں گے اور اسی نظام سے ٹکراتے رہیں گے، تاکہ اسے شرم دلائی جا سکے۔"
 پس منظر:
خیبر پختونخوا اسمبلی نے 23 جون کو فوری طور پر بجٹ منظور کیا، جس پر پی ٹی آئی کی صفوں میں مشاورت کی کمی اور شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عمران خان کی قید اور محدود رسائی کے باعث پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

 نتیجہ:
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کا مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے بغیر کیے گئے فیصلے نہ صرف سیاسی طور پر متنازع بن رہے ہیں بلکہ پارٹی کے اندرونی اعتماد کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں ان کی درخواست کا کیا مستقبل ہوتا ہے۔