پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے حال ہی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کی حالیہ صورتحال اور احتجاجی مظاہروں سے متعلق اہم باتیں کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کل کے احتجاج میں لوگ کیوں نہیں پہنچے، اس حوالے سے وہ پارٹی میں بات کریں گے اور صورتحال کا جائزہ لیں گے۔انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اور محمود اچکزئی کل رات 11 بجے تک بانی کی بہنوں کے ساتھ چکری انٹرچینج پر موجود رہے، جہاں انہوں نے احتجاج کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایم این اے کسی معقول وجہ کے بغیر احتجاج میں شامل نہ ہو، تو اس کا جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے اظہار کیا کہ کل کا احتجاج ایک کوشش تھی، جو بڑی حد تک کامیاب رہی، اور آئندہ یہ عمل مزید بہتر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔رہنما نے یہ بھی بتایا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی اور مقامی قیادت کو بتایا گیا تھا کہ وہ خود احتجاج کی ترتیب دیں، لیکن لوگوں کی عدم شرکت کی وجوہات پر بانی سے مشورہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج آخری نہیں ہے، بلکہ ایک جاری عمل ہے، اور اس میں مزید بہتری آئے گی۔سلمان اکرم راجہ نے توشہ خانہ کیس اور سائفر کیس کے حوالے سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کیس کا ٹرائل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، کیونکہ فیملی، میڈیا اور وکلاء کو داخلے سے روک دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے اس کیس کے ٹرائل کو دو بار کالعدم قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے بعد پھر سے میڈیا، فیملی اور وکلاء کو داخلہ سے روکا جا رہا ہے، جو قانون کے خلاف ہے۔سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کا وکالت نامہ توشہ خانہ کیس ٹو میں شامل ہے، اور انہیں بھی روک دیا گیا ہے۔ وہ قانونی کارروائی کریں گے تاکہ اس غیر آئینی ٹرائل کو روکا جا سکے، اور عدالت میں یہ نکتہ اٹھائیں گے کہ جب تک قانون کی پابندی نہیں ہوگی، یہ مقدمہ جاری نہیں رہ سکتا۔ بیرسٹر سلمان صفدر بھی اس معاملے میں عدالت میں اپنی آواز بلند کریں گے۔مزید برآں، انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا حتمی فیصلہ بانی پاکستان کی صوابدید پر ہے، اور مذکورہ مذاکرات ان کی اجازت سے ہی ہوں گے۔ موجودہ حالات میں کوئی بھی مذاکرات ممکن نہیں کیونکہ قانون کی حکمرانی اور حکومتی اداروں کے رویے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حالات کشیدہ ہیں۔