ایشیا کپ 2025: بھارتی براڈکاسٹر کی جانب سے پاکستان کو پوسٹر سے ہٹانا نیا تنازعہ بن گیا

ایشیا کپ 2025: بھارتی براڈکاسٹر کی جانب سے پاکستان کو پوسٹر سے ہٹانا نیا تنازعہ بن گیا

ایشیا کپ 2025 کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے دوران، بھارتی براڈکاسٹر "سونی اسپورٹس" کی جانب سے جاری کردہ ایک پوسٹر نے کرکٹ شائقین کے درمیان نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (ٹوئٹر) پر جاری کردہ اس پوسٹر میں بھارتی، بنگلادیشی، اور سری لنکن کپتان شامل ہیں، لیکن پاکستانی کپتان کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

شدید تنقید کا سامنا
اس اقدام پر سونی اسپورٹس کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ صارفین نے اسے جانبداری قرار دیتے ہوئے کرکٹ کے جذبے کے خلاف قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی نزاکت کے باوجود کھیل کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔

پس منظر: بھارت کی شرکت اور میزبان یو اے ای
پچھلے کچھ ہفتوں سے یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ سرحدی کشیدگی کے باعث بھارت ایشیا کپ میں شرکت کرے گا یا نہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق بھارت ایونٹ میں حصہ لے گا، اور ایونٹ کی میزبانی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کرے گا، لیکن رائٹس بھارت کے پاس ہی ہوں گے۔

کرکٹ شائقین کا غصہ
پوسٹر میں پاکستان کو شامل نہ کرنا بظاہر ایک "پیشگی سیاسی بیانیہ" تیار کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ پاک بھارت ہائی وولٹیج مقابلہ ہمیشہ سے ایشیا کپ کی خاص بات رہا ہے، اور پاکستانی کپتان کی غیرموجودگی اس روایتی جوش کو متاثر کر سکتی ہے۔

ایونٹ کا شیڈول اور فارمیٹ
اگرچہ ایشیا کپ 2025 کا باضابطہ شیڈول تاحال جاری نہیں کیا گیا، لیکن سونی اسپورٹس کی جانب سے پوسٹر کا اجرا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایونٹ ممکنہ طور پر اپنے مقررہ وقت (ستمبر 2025) پر منعقد ہوگا۔یہ ایونٹ ٹی20 فارمیٹ پر کھیلا جائے گا تاکہ ٹیمیں ٹی20 ورلڈکپ 2026 کی تیاری کر سکیں۔

 نتیجہ
پاکستان کو آفیشل پوسٹر سے ہٹانا نہ صرف غیرپیشہ ورانہ عمل ہے بلکہ اس سے کرکٹ کے فین بیس میں ناپسندیدگی اور مایوسی بڑھتی ہے۔ ایشیا کپ جیسے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں تمام شریک ممالک کی برابری سے نمائندگی بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل (ACC) یا پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔