ریاض/واشنگٹن/یروشلم : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان سعودی عرب کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجویز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد ایران اور اسرائیل دونوں نے جنگ بندی پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے، جسے خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کا پُرامن مؤقف
سعودی سرکاری خبر ایجنسی (SPA) کے مطابق، سعودی عرب نے اپنے بیان میں کہا:"ہمیں امید ہے کہ تمام فریقین کشیدگی میں کمی کے لیے پُرعزم ہوں گے اور طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔"سعودی عرب نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے ایران اور اسرائیل سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی۔
امریکی صدر ٹرمپ کا ردعمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے "عقل مندانہ اور بروقت" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
اسرائیل اور ایران کا باضابطہ جنگ بندی اعلان
سفارتی دباؤ اور ثالثی کی کوششوں کے بعد پہلے ایران اور پھر اسرائیل نے جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کیا۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا:"ہم امریکی صدر ٹرمپ کے مشکور ہیں جنہوں نے اسرائیل کے دفاع میں ہمارا ساتھ دیا اور ایرانی جوہری خطرے کے خلاف عالمی برادری کو متحد کیا۔"
تجزیہ: خطے میں امن کی امید
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی معاہدہ اگر برقرار رہتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے تنازعے کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں سامنے آنے والی یہ سفارتی کوششیں نہ صرف جی سی سی ممالک کی مؤثر سفارتکاری کی علامت ہیں، بلکہ یہ خطے میں قومی سلامتی اور اقتصادی بحالی کے لیے بھی اہم ہیں۔
پس منظر:
حالیہ ہفتوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، میزائل حملے اور سفارتی الزامات نے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ ایسے وقت میں سعودی ثالثی کردار نے ایک نئی راہِ امن دکھائی ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔