برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے “دنیا کے لیے امید کی کرن” قرار دیا ہے۔
اپنے جاری کردہ سرکاری بیان میں سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ یہ لمحہ پوری دنیا کے لیے، بالخصوص یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ اور غزہ کے بے گناہ شہریوں کے لیے اطمینان اور امید کا باعث ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاہدے پر اب بلا تاخیر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ برسوں سے جاری ظلم و تباہی کا خاتمہ ممکن ہو۔برطانوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی نہایت ضروری ہے، لہٰذا تمام فریقین فوری طور پر امداد کی ترسیل پر عائد تمام رکاوٹیں ختم کریں تاکہ زخمیوں، بے گھر افراد اور بھوک کا شکار شہریوں تک امداد پہنچ سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فریقین کو اس موقع کو پائیدار امن کے قیام کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ “اب وقت آگیا ہے کہ کیے گئے وعدوں پر مکمل عمل ہو، جنگ کا خاتمہ ہو اور ایک منصفانہ و دیرپا حل کی بنیاد رکھی جائے۔”واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان جاری جنگ روکنے اور یرغمال قیدیوں کی رہائی کے لیے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر مصر میں ابتدائی دستخط ہو چکے ہیں، جبکہ باضابطہ دستخط آج دوپہر متوقع ہیں۔ذرائع کے مطابق معاہدے پر عملدرآمد کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا شروع ہو جائے گا، اور انسانی امداد کے قافلے غزہ کے مختلف حصوں میں داخل ہوں گے۔