غزہ جنگ بندی: امریکی تجویز پر اسرائیل نے دستخط کر دیے، حماس سے جواب طلب

غزہ جنگ بندی: امریکی تجویز پر اسرائیل نے دستخط کر دیے، حماس سے جواب طلب

ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق پیش کردہ نئی مجوزہ تجویز پر اسرائیل نے دستخط کر دیے ہیں، تاہم حماس کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

جنگ بندی پر بات چیت جاری
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور امریکا کو امید ہے کہ جلد تمام مغویوں کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ امریکا کے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف کی نئی تجویز پر اسرائیل کی منظوری حاصل ہو چکی ہے، جبکہ حماس نے معاہدے پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

مجوزہ جنگ بندی معاہدہ کیا ہے؟
عرب میڈیا کے مطابق مجوزہ معاہدے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

جنگ بندی کا دورانیہ: 60 دن
یرغمالیوں کی رہائی:

پہلے دن 5 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی
ساٹھویں دن مزید 5 یرغمالیوں کی رہائی
فلسطینی قیدیوں کی رہائی: دو مراحل میں
غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضمانت
انسانی امداد: جنگ بندی کے پہلے دن سے غزہ میں غیر مشروط امداد کی فراہمی
ٹرمپ کی امیدیں اور علاقائی امن
کیرولائن لیویٹ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کو امید ہے کہ اگلے ہفتے روس اور یوکرین بھی امن مذاکرات کے لیے ملاقات کریں گے، جو عالمی امن کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔

حالیہ تناظر:
18 مارچ: اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کی۔
7 اکتوبر 2023 سے اب تک:

شہادتیں: 54 ہزار سے زائد فلسطینی
زخمی: ایک لاکھ سے زائد افراد