ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے اسرائیلی الزام کو مسترد کر دیا

ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے اسرائیلی الزام کو مسترد کر دیا

ایران نے اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کے دوران میزائل حملے کے الزام کو سراسر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

 ایرانی میڈیا نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل پر کوئی میزائل حملہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی فوج کا الزام اور عوامی الرٹ
اسرائیلی فوج نے الزام لگایا تھا کہ سیزفائر شروع ہونے کے فوری بعد ایران سے ایک میزائل داغا گیا، جس کے باعث ملک کے شمالی علاقوں میں سائرن بجنے لگے۔ فوجی ترجمان کے مطابق عوام کو اگلے نوٹس تک محفوظ مقام پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا ردعمل
اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایران کی مبینہ کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فوج کو تہران پر ممکنہ حملوں کی تیاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
ان کے بقول، "ہم اپنے دشمنوں کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ اسرائیل کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گا۔"

ایران کا مؤقف
دوسری جانب، ایران نے اس دعوے کو ایک من گھڑت پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس قسم کی جھوٹی خبریں پھیلا کر جنگ بندی کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق:"ہم جنگ بندی کے عمل کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اسرائیل جھوٹے الزامات لگا کر صورتحال کو بگاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔"
پس منظر: جنگ بندی کا اعلان
واضح رہے کہ کچھ ہی دیر قبل اسرائیل نے امریکہ کی تجویز کردہ جنگ بندی کو باضابطہ طور پر قبول کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد غزہ اور خطے میں کشیدگی میں کمی لانا تھا۔ اس پیش رفت کو سفارتی سطح پر بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا، تاہم اب ایران پر حملے کے خدشات نے صورتحال کو دوبارہ کشیدہ کر دیا ہے۔

تجزیہ:
مبصرین کے مطابق، اگر اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم ہوا تو یہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی دہلیز پر لے جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے اس صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے، اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔