تہران کے ضلع 7 پر اسرائیلی حملے جاری، انخلا کی وارننگ کے بعد دھماکے

تہران کے ضلع 7 پر اسرائیلی حملے جاری، انخلا کی وارننگ کے بعد دھماکے

IDF نے تہران کے ضلع 7 میں رہائشیوں کو فوری انخلا کی وارننگ جاری کی,جس کے فوراً بعد، ایرانی فارس نیوز ایجنسی نے شمال مشرقی تہران میں تین دھماکوں کی اطلاع دی، جہاں ضلع 7 واقع ہے۔

یہ دھماکے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک تقریباً چھ گھنٹے بعد نافذ ہونے والی جنگ بندی کے اعلان کے عین بعد ہوئے ۔

 جنگ بندی کا ڈرامائی پس منظر

ٹرمپ نے امریکہ اور قطر کے ذریعے اسرائیل و ایران کے درمیان 23 جون 2025 کو “12‑دنہ جنگ” ختم کرنے والا جنگ بندی معاہدہ ہونے کا اعلان کیا ۔ایران نے اس معاہدے کی تردید کی؛ ایرانی وزیر خارجہ عباس ارغچی نے کہا کہ “کوئی جنگ بندی معاہدہ نہیں ہوا”، اور واضح کیا کہ جب تک اسرائیل اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا، ایران بھی حملے جاری رکھے گا ۔
جنگ بندی کا اطلاق مرحلہ وار متوقع تھا؛ ابتدا ایران سے، پھر تقریباً 12 گھنٹے بعد اسرائیل کے ہاں ۔تاہم، ایرانی اور امریکی میڈیا نے بتایا کہ ایران نے اعلان کردہ ڈیڈ لائن (مثلاً 4 a.m. تہران وقت) کے بعد بھی میزائل داغے، کچھ اسرائیل میں ہٹ گئے، جس سے مزید جانی نقصان ہوا ۔
 میڈیا ردعمل اور بیانات

ایران نے صدر ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کو جھوٹ اور سیاسی حربہ کہا، اور تہران میں جاری دھماکوں کو اسرائیل کے ممکنہ نئے حملوں کے طور پر پیش کیا۔کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے ممکنہ طور پر “ان حربوں کا آخری مرحلہ” ہو سکتے ہیں تاکہ جنگ بندی نافذ ہونے سے قبل مقاصد حاصل کیے جائیں۔
نتیجہ سو فیصد جنگ بندی ابھی نہیں
اگرچہ ٹرمپ نے “مکمل اور جامع جنگ بندی” کا ذکر کیا ، لیکن ایران نے اس کی تردید کی، اور میزائل حملے بھی جاری رہے، جو جنگ بندی کے واقعی نافذ نہ ہونے کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔