تہران/ویب ڈیسک : ایران کے دارالحکومت تہران میں ہفتے کی صبح سویرے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جنہیں ایران کے سرکاری میڈیا نے فضائی حملے قرار دیا ہے۔
اسرائیل نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ہدف ایرانی فوجی تنصیبات اور میزائل لانچرز تھے۔
حملوں کی تفصیلات
دھماکے تہران کے مشرقی، جنوب مشرقی علاقوں اور خوزستان کے شہر اہواز میں بھی سنے گئے۔ایرانی ائیر ڈیفنس سسٹمز کو فوری طور پر ایکٹیویٹ کر دیا گیا اور دارالحکومت کی فضائی حدود میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں:
میزائل لانچنگ پیڈز
ریڈار اسٹیشنز
اور دیگر دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی کردار اور ٹرمپ کی وارننگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک سوشل میڈیا پیغام میں:تہران کے شہریوں کو فوری انخلا کی تنبیہ کی تھی۔ایران کے جوہری معاہدے سے انکار کو "بیوقوفی" قرار دیا۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ اسے خطے میں پیچھے دھکیلا جا سکے۔
عام شہری اور شہری تنصیبات متاثر
گزشتہ روز ہونے والے حملوں میں:
سرکاری ٹی وی چینلز
اسپتال
فائر اسٹیشن
کو بھی نقصان پہنچا۔
کئی عام شہری زخمی ہوئے جنہیں تہران کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
اسرائیل کا دعویٰ، ایران کا ردعمل
اسرائیلی فوج نے کہا کہ:"ہم نے ایران کے ایک تہائی میزائل لانچرز تباہ کر دیے ہیں، اور تہران کی فضائی حدود پر ہماری برتری قائم ہے۔"ایرانی وزارت دفاع نے اسرائیلی دعوؤں کو "مضحکہ خیز اور پروپیگنڈا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ:"تل ابیب کے شہری دفاعی اور فوجی تنصیبات کے قریب جانے سے گریز کریں، ورنہ جوابی کارروائی کی جائے گی۔"
علاقائی تناؤ میں اضافہ
خلیج، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اس کشیدگی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جب کہ اقوام متحدہ نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ:ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست جھڑپ نئے عالمی محاذ کو جنم دے سکتی ہے۔پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو سفارتی اور سیکیورٹی سطح پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔