سکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران متعدد دہشت گرد گرفتار ‘ سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں
ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کو کچل دیا جائیگا، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رہے گی: وزیراعلیٰ بلوچستان
کوئٹہ (آئی این پی)بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور ان کے سرکاری محافظ ہلاک جبکہ ایڈیشنل سیشن جج زخمی ہو گئے۔حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح کوئٹہ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر مستونگ کے علاقے سنگر میں ولی خان ریلوے پھاٹک کے قریب پیش آیا۔مستونگ کے ایس پی اللہ بخش نے میڈیا کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ، ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سرکاری محافظ کے ہمراہ گاڑی میں کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سرکاری محافظ محمد زمان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہو گئے‘دریں اثناء سیکیورٹی فورسز نے مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کرلیا، گرفتار شدگان میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔زیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع مستونگ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سرکاری محافظ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی