تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد حکومت کے خلاف عوامی طاقت کے ذریعے فیصلہ کن جدوجہد کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں 31 جولائی کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) طلب کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی مینڈیٹ کی نمائندہ نہیں ہے، اسے دھاندلی، جبر اور بندوبست کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کا یہ اتحاد کسی کھیل یا تماشے کے لیے نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سیاسی عمل کے تحت تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مقصد غیر آئینی اقدامات کا راستہ روکنا اور عوام کو ان کا حق دلانا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں غیرجانبدار الیکشن کمیشن کے ذریعے شفاف انتخابات کرائے جائیں اور جس جماعت کو عوامی مینڈیٹ ملے، اسے حکومت سازی کا پورا موقع دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس جماعت نے حالیہ انتخابات میں اکثریت حاصل کی، اس کی قیادت کو جیلوں میں ڈال کر عوامی فیصلے کا مذاق اڑایا گیا۔محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ "شہباز اینڈ کمپنی" نے طاقت کے ذریعے عوام پر تسلط قائم کیا ہے، جو کسی طور قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے حالیہ عدالتی فیصلے پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر ملک میں واقعی جمہوریت ہوتی تو ایسا متنازع فیصلہ کبھی سامنے نہ آتا۔
انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی نے بھی مخصوص نشستوں کی بندربانٹ کی مذمت نہیں کی، جو انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت پر بھی شدید ردعمل دیا اور کہا کہ دنیا اسرائیلی ظلم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ گن شپ ہیلی کاپٹر زمین پر بھاگتے بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے، غزہ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہو رہی ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم کو عالمی عدالت سے سزا ملنی چاہیے۔محمود خان اچکزئی نے عوام، وکلا، طلبہ، مزدور، کسان اور تمام جمہوریت پسند طبقات سے اپیل کی کہ وہ 31 جولائی کو اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کریں اور آئین، قانون، شفاف انتخابات اور عوامی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔