اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن کی عدالت میں ہوئی۔
سماعت کے دوران خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اور علی امین گنڈاپور کے وکیل ظہور الحسن عدالت میں پیش ہوئے۔ علی امین گنڈاپور کی جانب سے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ آج خیبرپختونخوا میں ایک اہم سرکاری مصروفیت، "گرینڈ جرگہ" میں شرکت کر رہے ہیں جس میں ملک بھر سے قبائلی عمائدین اور نمائندے شریک ہو رہے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے عدالت سے استدعا کی کہ علی امین گنڈاپور کی سرکاری مصروفیات کے باعث آج کا دن مقدمے کی سماعت کے لیے موزوں نہیں، لہٰذا کیس کو ستمبر تک ملتوی کیا جائے۔
عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی اور ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت سے متعلق عدالتی حکمنامہ کا بغور جائزہ لے لیں۔واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور پر الزام ہے کہ ان کی گاڑی سے اسلحہ اور شراب برآمد ہوئی تھی، جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں ان کا 342 کا بیان ریکارڈ ہونا باقی ہے، جو آج نہ ہو سکا۔