وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک کے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا، افغانستان اور پاکستان کے ریجنل نائب صدر عثمان ڈیون نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں پاکستان کے ساتھ عالمی بینک کی شراکت داری کو وسعت دینے، ترقیاتی ترجیحات، اور جاری معاشی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
عالمی بینک کی شراکت داری پر وزیراعظم کا شکریہ
وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ عالمی بینک کے طویل المدتی تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے، خاص طور پر ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور سابق کنٹری ڈائریکٹر ناجی بنہسین کے کردار کو سراہا جنہوں نے پاکستان کے لیے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کی تیاری اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ:"توانائی، انسانی وسائل کی ترقی، گورننس اصلاحات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے کلیدی شعبوں میں CPF پاکستان کی ترقی کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔"
سندھ طاس معاہدہ اور عالمی بینک کی اصولی حمایت
وزیراعظم نے ملاقات میں سندھ طاس معاہدے پر بھی بات کی اور بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی روشنی میں پاکستان کے جائز مؤقف کے لیے عالمی بینک کی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
سیلاب کے دوران عالمی بینک کی بروقت مدد
وزیراعظم نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران عالمی بینک کی بروقت اور فراخدلانہ امداد پر شکریہ ادا کیا، جس کی بدولت پاکستان فوری امدادی سرگرمیاں، بحالی اور تعمیر نو کا عمل بروقت شروع کر سکا۔
عثمان ڈیون کا ردعمل
عثمان ڈیون نے پاکستان کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ بینک پاکستان کے ساتھ طویل المدتی ترقیاتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے پاکستان کی میکرو اکنامک بحالی، مالیاتی استحکام اور پائیدار ترقی کے سفر میں وزیراعظم کی قیادت کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ:"وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اصلاحاتی ایجنڈے، ادارہ جاتی بہتری، اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے اقدامات لائق تحسین ہیں۔"
مشترکہ عزم
ملاقات کے اختتام پر حکومتِ پاکستان اور عالمی بینک نے پاکستان کے عوام کے لیے خوشحال اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔