بسنت کے تینوں روز لاہور میں مفت سفری سہولیات، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا اعلان

بسنت کے تینوں روز لاہور میں مفت سفری سہولیات، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت بسنت فیسٹیول سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں تہوار کے انعقاد، سیکیورٹی اور سہولیات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

 اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بسنت کے تینوں روز لاہور میں شہریوں کے لیے مفت سفری سہولیات کا اعلان کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ وہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹانے آئی ہیں، ماضی میں عوام سے خوشی اور تفریح کا ماحول چھین لیا گیا تھا۔ پنجاب دل والوں کا صوبہ ہے اور یہاں کے عوام کو تفریح اور خوشی منانے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 سال بعد پنجاب میں ہارس اینڈ کیٹل شو کا انعقاد کیا گیا اور رواں سال بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عید، ہولی، کرسمس اور رمضان سمیت ہر مذہب اور ثقافت سے وابستہ تہوار منانا شہریوں کا حق ہے۔ بسنت موسم بہار کی آمد کا خوبصورت تہوار ہے جس کی تاریخ تقریباً 800 سال پرانی ہے اور یہ پنجاب کی ثقافت اور ورثے کا حصہ ہے۔مریم نواز نے اعلان کیا کہ 6، 7 اور 8 فروری کو پہلی مرتبہ سرکاری سرپرستی میں منظم انداز سے بسنت منائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بسنت کو حادثات سے جوڑنا افسوسناک ہے، اسی لیے شہریوں کے تحفظ کے لیے جامع سیفٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ لاہور کو ریڈ، ییلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق لاہور میں 10 لاکھ موٹرسائیکلوں پر مفت سیفٹی راڈز لگائی جا رہی ہیں، جبکہ بسنت کے لیے 2150 مینوفیکچررز، تاجروں اور دکانداروں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔ بسنت سے قبل غیر قانونی پتنگ بازی پر 600 سے زائد مقدمات درج اور 641 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ 27 ہزار سے زائد غیر قانونی پتنگیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران ڈور کی چرخی کا استعمال ممنوع ہوگا، صرف پِنا استعمال کیا جا سکے گا اور نو دھاگوں پر مشتمل کاٹن ڈور کی اجازت ہوگی۔ نائیلون یا دھاتی تار کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ مقررہ سائز سے بڑی پتنگ یا گڈا اڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ممنوعہ ڈور کے استعمال پر پانچ سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا، جبکہ 6، 7 اور 8 فروری کے علاوہ پتنگ بازی کرنے پر بھی جرمانہ اور قید کی سزا دی جائے گی۔ غیر قانونی پتنگ بازی میں ملوث افراد کے والدین اور سرپرست بھی ذمہ دار ہوں گے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ بسنت کے دوران ٹریفک کے لیے خصوصی پلان تیار کیا گیا ہے۔ شہریوں کو مفت سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے 500 بسیں چلائی جائیں گی، جبکہ اورنج لائن، میٹرو بس، الیکٹرو بس اور فیڈر بس پر سفر بھی مفت ہوگا۔ اس کے علاوہ یانگو کے 6 ہزار رکشے 24 روٹس پر 60 ہزار مفت رائیڈز فراہم کریں گے۔ فری رائیڈ کا مقصد موٹرسائیکل کے استعمال کو کم کرنا اور شہریوں کو حادثات سے بچانا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سیف سٹی اور کمشنر آفس میں خصوصی کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں، جہاں 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہے گا۔

 سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے تین روزہ بسنت فیسٹیول کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ بسنت کے موقع پر پولیس، فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور ہیلتھ سروسز کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں اور ڈس انفارمیشن پر کان نہ دھریں اور بسنت کو خوشی، ذمہ داری اور ذہنی سکون کے ساتھ منائیں۔ ان کے مطابق 6 فروری کی رات بسنت فیسٹیول کی لانچنگ ہوگی جبکہ 7 فروری کو باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔