گوگل نے صدارتی مدت ختم ہوتے ہی جو بائیڈن کا نام فہرست سے نکال دیا

گوگل نے صدارتی مدت ختم ہوتے ہی جو بائیڈن کا نام فہرست سے نکال دیا

گوگل کی غلطی پر صارفین کے درمیان حیرانی کی لہر دوڑ گئی جب دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن پر امریکی صدور کی فہرست میں موجود تمام صدور کے نام موجود تھے لیکن جو بائیڈن کا نام غائب تھا۔

یہ غلطی سب سے پہلے بلیو اسکائی سوشل میڈیا صارفین نے نوٹ کی۔ صارفین کا خیال تھا کہ گوگل نے یہ جان بوجھ کر کیا ہے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کیا جا سکے اور اس اقدام کو گوگل کے سیاسی تعصب کا اظہار سمجھا۔یہ واقعہ گوگل کے ڈیٹا میں خرابی کی وجہ سے پیش آیا تھا جس کا کمپنی کے ترجمان نے بعد ازاں اعتراف کیا۔ گوگل نے اس غلطی کو فوری طور پر درست کیا، اور اس کی وضاحت کی کہ یہ ڈیٹا کی خرابی کا نتیجہ تھا۔ اس واقعے کے بعد گوگل پر صارفین کے ردعمل میں اضافہ ہوا اور بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے اسے سیاسی بنیاد پر ہونے والے اقدامات کے طور پر لیا۔

یاد رہے کہ گوگل کی جانب سے سیاسی حوالے سے اس طرح کی دیگر کارروائیوں پر تنقید بھی کی جاچکی ہے۔ اس سے پہلے کئی بڑی ٹیک کمپنیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب کے لیے بھی بھاری رقم عطیہ کی تھی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گوگل میں بھی سیاسی رجحانات کا اثر ہو سکتا ہے۔