لبنان کے بعد غزہ؛ جو بائیڈن وائٹ ہاؤس کے آخری دنوں میں غزہ جنگ ختم کروانے کیلئے سرگرم

 لبنان کے بعد غزہ؛ جو بائیڈن وائٹ ہاؤس کے آخری دنوں میں غزہ جنگ ختم کروانے کیلئے سرگرم

 بائیڈن کی غزہ جنگ بندی کے لیے نئی مہم
امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے نئی سفارتی مہم کا آغاز کیا ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا پہلا دن امن کے ساتھ گزرنے کے بعد، بائیڈن نے غزہ میں بھی معاہدے کے لیے دباؤ بڑھانے کا اعلان کیا۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے بتایا کہ صدر بائیڈن ترکی، قطر، اور مصر جیسے ممالک کے ساتھ بات چیت کو فروغ دیں گے تاکہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

 اسرائیل-حزب اللہ معاہدے کی اہمیت
امریکہ اور فرانس کی ثالثی سے ہونے والے لبنان جنگ بندی معاہدے کو صدر بائیڈن کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد، حزب اللہ نے غزہ میں حماس کی مدد نہ کرنے کا عندیہ دیا، جس سے حماس پر جنگ بندی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

 حماس کے قیدیوں کی صورتحال
حماس نے اب تک 97 یرغمالیوں کو اپنی قید میں رکھا ہوا ہے، جن میں 34 قیدی اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ اسرائیل نے ان تمام یرغمالیوں اور ان کی لاشوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔گزشتہ جنگ بندی کے دوران حماس نے 105 شہریوں کو رہا کیا تھا، لیکن کئی فوجیوں کی لاشیں اب بھی حماس کے قبضے میں ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔

 مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات
صدر بائیڈن نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ یہ اقدامات خطے میں استحکام کے لیے ایک نئے باب کی شروعات ثابت ہو سکتے ہیں۔