ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جو کہ امریکی حراست میں قید ہیں، نے حال ہی میں اپنے وکیل کے ذریعے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ ان کے خلاف مقدمے میں نئے شواہد سامنے آنے کے بعد انہیں جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مقدمے میں بے گناہ ہیں اور انہیں ناانصافی کا شکار قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "انشاءاللہ ایک دن میں اس اذیت سے آزاد ہو جاؤں گی"۔برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کے مطابق، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل، کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ، نے امریکی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کو معاف کریں۔ انہوں نے بائیڈن کو ایک 76 ہزار 500 الفاظ پر مشتمل ڈوزیئر بھی پیش کیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کو اس درخواست پر غور کرنے کے لیے پیر تک کا وقت دیا گیا ہے، جب کہ بائیڈن اب تک 39 افراد کو صدارتی معافی دے چکے ہیں۔
ڈاکٹر صدیقی کے وکیل نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی غلطیوں کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ کو ابتدائی طور پر مشتبہ سمجھا گیا۔ 2003 میں پاکستان کے دورے کے دوران، ان کے تین بچوں کے ساتھ انہیں پاکستانی انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی) نے حراست میں لیا اور بعد میں انہیں سی آئی اے کے حوالے کر دیا، جو انہیں افغانستان کے بگرام ایئر بیس لے گئی۔ وکیل نے مزید کہا کہ امریکی انٹیلی جنس نے غلط اندازہ لگایا کہ ڈاکٹر صدیقی نیوکلیئر فزکس میں کام کر رہی تھیں، حالانکہ انہوں نے تعلیم میں پی ایچ ڈی کی تھی۔
امریکی محکمہ انصاف اور سی آئی اے نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کا ردعمل دینے سے انکار کیا ہے۔