امریکہ کی نئی انتظامیہ نے یمن کے حوثی گروپ کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثی گروپ کی تحریک کو ایک بار پھر غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (FTO) قرار دینے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد حوثی گروپ پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کرنا ہے۔یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے حوثی گروپ کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا تھا۔ ٹرمپ کی انتظامیہ کا یہ اقدام خطے میں امریکی شہریوں اور اہلکاروں کی حفاظت، قریبی علاقائی شراکت داروں کی سلامتی اور عالمی سمندری تجارت کے استحکام کے حوالے سے اٹھایا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق، حوثی گروپ کی سرگرمیاں مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات اور عالمی سمندری جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ امریکہ کا یہ موقف ہے کہ حوثیوں کو وسائل سے محروم کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی کارروائیاں روکی جا سکیں، جس کے نتیجے میں امریکی شہریوں، شراکت داروں اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے خلاف ان کے حملے بند ہو سکیں۔
اس فیصلے پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، اور اس نے امریکی اقدام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حوثی گروپ کو دہشت گرد قرار دینا دراصل یمنی عوام پر مزید انسانی پابندیاں لگانے کا بہانہ ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ یمن کی آزادی اور خودمختاری کے حق میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔یاد رہے کہ حوثی گروپ یمن میں ایک طاقتور متنازعہ گروہ ہے جو ملک کی حکومت کے خلاف لڑائی لڑ رہا ہے، اور یہ ایران کے قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی میں شدت آ گئی ہے اور اس کے اثرات پورے خطے میں دیکھے جا رہے ہیں۔