یمن کے حوثی رہنما محمد علی الحوثی نے مصر کی پارلیمنٹ کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی اجازت دینے کے فیصلے کو یمن کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مصر کی جانب سے سعودی عرب کی دفاعی حمایت کا اعلان دراصل یمن کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے مترادف ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد علی الحوثی نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ مصر اور اس کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جسے وہ جمہوریہ یمن کے خلاف جنگ کا اعلان سمجھتے ہیں۔حوثی رہنما کا یہ بیان مصر کی پارلیمنٹ کی جانب سے صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کے دفاع کے لیے ضروری فوجی اقدامات کرنے کی اجازت دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ مصری پارلیمنٹ نے 26 اکتوبر 2026 کو اس فیصلے کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاعی مدد فراہم کرنا ہے۔
مصر کا سعودی عرب کی حمایت کا فیصلہ
مصر کی پارلیمنٹ نے صدر عبدالفتاح السیسی کو اختیار دیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے درخواست کیے جانے کی صورت میں اس کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔مصری صدر اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ ان کے ملک کی فوجی مدد کا مقصد سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہوگا، نہ کہ یمن پر حملہ کرنا۔ تاہم، فوجی مدد کی عملی نوعیت اور اس پر عمل درآمد کی مکمل تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں کی گئیں۔
حوثیوں کو مصر کے فیصلے پر اعتراض کیوں ہے؟
محمد علی الحوثی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثی قیادت مصر کے اس فیصلے کو اپنے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی حمایت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ حوثیوں کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کی فوجی مدد کے لیے مصر کا اختیار حاصل کرنا یمن کے تنازع میں مزید فریقوں کی شمولیت کا سبب بن سکتا ہے۔دوسری جانب مصر نے اپنی پالیسی کو سعودی عرب کے دفاع تک محدود رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ قاہرہ نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور یمن کے تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کی حمایت بھی کی ہے۔
یمن کے تنازع میں مزید کشیدگی کا خدشہ
یمن میں حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان تنازع طویل عرصے سے جاری ہے۔ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے، جب کہ حوثی دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے بڑے حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔مصر کی جانب سے سعودی عرب کو دفاعی مدد دینے کی اجازت اور اس پر حوثی قیادت کا سخت ردعمل خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کو نمایاں کرتا ہے۔ تاہم، مصر کی پارلیمنٹ کی منظوری کو یمن پر حملے کے فیصلے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ مصری حکام نے اپنے اقدام کو سعودی عرب کے دفاع تک محدود رکھنے کی بات کی ہے۔