گوجرانوالہ میں تھانہ باغبانپورہ کے علاقے میں پولیس مقابلے کے دوران ایک درندہ صفت ملزم، جو کم سن بچیوں سے زیادتی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھا، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔
پولیس کے مطابق، ہلاک شدہ ملزم، حبیب اللّٰہ، کو اغوا، بچوں سے زیادتی، اور موٹر سائیکل چوری کے 26 مقدمات میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کا ریکارڈ انتہائی خوفناک اور سنگین جرائم کا تھا، خاص طور پر کم سن بچیوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے۔ سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ڈویژنل ایس پی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ملزم حبیب اللّٰہ تھانہ باغبانپورہ میں 11 سالہ بچی کے اغوا اور زیادتی کی کوشش کے مقدمہ میں جسمانی ریمانڈ پر تھا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزم پولیس کی حراست سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، اور اس دوران اُس نے اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ یہ واقعہ 17 فروری 2026 کو پیش آیا، جب ملزم نے 11 سالہ کمسن بچی کو اسکول جاتے ہوئے اغوا کیا تھا۔ ملزم کا ماضی بھی انتہائی سنگین تھا، اور وہ پہلے بھی کم سن بچیوں کو اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے جرم میں ریکارڈ یافتہ تھا۔ سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون شکنی کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، اور قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔ گوجرانوالہ میں تھانہ باغبانپورہ کے علاقے میں پولیس مقابلے کے دوران ایک درندہ صفت ملزم، جو کم سن بچیوں سے زیادتی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھا، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق، ہلاک شدہ ملزم، حبیب اللّٰہ، کو اغوا، بچوں سے زیادتی، اور موٹر سائیکل چوری کے 26 مقدمات میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کا ریکارڈ انتہائی خوفناک اور سنگین جرائم کا تھا، خاص طور پر کم سن بچیوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے۔ سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ڈویژنل ایس پی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ملزم حبیب اللّٰہ تھانہ باغبانپورہ میں 11 سالہ بچی کے اغوا اور زیادتی کی کوشش کے مقدمہ میں جسمانی ریمانڈ پر تھا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزم پولیس کی حراست سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، اور اس دوران اُس نے اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
یہ واقعہ 17 فروری 2026 کو پیش آیا، جب ملزم نے 11 سالہ کمسن بچی کو اسکول جاتے ہوئے اغوا کیا تھا۔ ملزم کا ماضی بھی انتہائی سنگین تھا، اور وہ پہلے بھی کم سن بچیوں کو اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے جرم میں ریکارڈ یافتہ تھا۔ سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون شکنی کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، اور قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔