لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں خواتین اور بچیوں سے زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے واقعات میں اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال زیادتی کے مقدمات میں 20 فیصد جبکہ اجتماعی زیادتی کے واقعات میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہر میں رواں سال زیادتی کے 498 اور اجتماعی زیادتی کے 36 مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں۔پولیس ریکارڈ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار نے خواتین اور بچیوں کے تحفظ سے متعلق سنگین خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ ڈویژن وار تفصیلات کے مطابق زیادتی کے مقدمات مختلف علاقوں میں درج کیے گئے، جبکہ اجتماعی زیادتی کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں ماڈل ٹاؤن ڈویژن سرفہرست رہا۔
صدر ڈویژن میں زیادتی کے سب سے زیادہ مقدمات
پولیس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے صدر ڈویژن میں رواں سال زیادتی کے 132 مقدمات درج ہوئے، جو مذکورہ ڈویژنوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔دیگر ڈویژنوں کی تفصیلات کے مطابق ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں 98، اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 80 اور سٹی ڈویژن میں 56 مقدمات رپورٹ ہوئے۔ کینٹ ڈویژن میں زیادتی کے 9 مقدمات درج ہونے کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں اس نوعیت کے جرائم رپورٹ ہوئے ہیں، تاہم صرف مقدمات کی تعداد کی بنیاد پر کسی علاقے میں جرائم کی اصل شرح یا متاثرہ افراد کو درپیش خطرات کا مکمل تعین نہیں کیا جاسکتا۔
ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں اجتماعی زیادتی کے سب سے زیادہ مقدمات
اجتماعی زیادتی کے مقدمات کے حوالے سے ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں سب سے زیادہ 10 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اقبال ٹاؤن ڈویژن میں اجتماعی زیادتی کے 6 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ سول لائنز ڈویژن میں 3 اور سٹی ڈویژن میں 2 مقدمات رپورٹ ہوئے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر رواں سال لاہور میں اجتماعی زیادتی کے 36 مقدمات درج ہوئے۔ تاہم فراہم کردہ تفصیلات میں تمام ڈویژنوں کے اعداد و شمار شامل نہیں، اس لیے باقی مقدمات کی ڈویژن وار تقسیم واضح نہیں ہوسکی۔
خواتین اور بچیوں کا تحفظ اہم سوال بن گیا
زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں اضافے کے اعداد و شمار خواتین اور بچیوں کے تحفظ، جرائم کی روک تھام اور متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر تفتیش، ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی، متاثرین کی رازداری کا تحفظ اور انہیں فوری مدد فراہم کرنا اہم اقدامات ہیں۔ متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو ایسا ماحول فراہم کرنا بھی ضروری ہے جہاں وہ بلاخوف شکایت درج کراسکیں۔
اعداد و شمار کی مکمل وضاحت ضروری
پولیس ریکارڈ میں زیادتی کے مقدمات میں 20 فیصد اور اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں 38 فیصد اضافے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات میں گزشتہ سال کی متعلقہ تعداد اور موازنے کی مکمل مدت درج نہیں۔ اس لیے ان شرحوں کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید تفصیلات درکار ہیں۔اسی طرح ڈویژن وار اعداد و شمار بھی مکمل نہیں، جس کے باعث تمام درج مقدمات کی علاقائی تقسیم واضح نہیں ہوتی۔