پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو رات گئے آنکھ کے علاج کے سلسلے میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال منتقل کیا گیا۔
انہیں اینٹی وی ای جی ایف انجکشن کی دوسری خوراک دی گئی، جس کے بعد انہیں اڈیالہ جیل سے سخت حفاظتی انتظامات کے تحت اسپتال لایا گیا اور علاج مکمل ہونے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق، یہ منتقلی پہلے سے طے شدہ طبی شیڈول کے مطابق کی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی عمران خان 24 اور 25 جنوری کو آنکھ کے معائنے اور علاج کے لیے اسپتال آئے تھے، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کے علاج کے لیے تین انجکشن تجویز کیے تھے۔ ان میں سے دوسری خوراک اب دی جا چکی ہے، اور تیسرا انجکشن ممکنہ طور پر 23 مارچ کو لگایا جائے گا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ماہر ڈاکٹروں کے بورڈ نے مکمل معائنے کے بعد انجکشن دیا، اور یہ عمل مکمل طور پر رضامندی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ انجکشن آنکھ کے اندر لگایا گیا، اور یہ عمل ڈے کیئر سرجری کے طور پر مکمل ہوا، جس کے بعد وہ اسی دن اسپتال سے ڈسچارج کر دیے گئے۔طبی ٹیم کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حالت مستحکم ہے اور کسی ہنگامی صورتحال کی اطلاع نہیں ملی۔
آئندہ بھی ان کے علاج کے لیے فالو اپ جاری رہے گا اور صحت کی نگرانی کی جائے گی۔اس حوالے سے پارٹی کے رہنماؤں نے بھی علاج کے عمل کی تصدیق کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ معائنے ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں کیے جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ پارٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، عمران خان کو سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن نامی آنکھ کی سنگین بیماری تشخیص ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی کھونے کا ذکر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ بیماری زیادہ عمر کے افراد میں ہوتی ہے اور اس کا تعلق بلند فشار خون، شوگر، کولیسٹرول، اور دل کے امراض سے بھی ہو سکتا ہے۔عمران خان کو علاج کے بعد اڈیالہ جیل سے پمز منتقل کیا گیا تھا، اور اب ان کی صحت کی حالت کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔