گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اصلاحات کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس مہلت کے بعد انہیں دھرنے کی حقیقت بتا دی جائے گی۔
پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے، فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنکرز اور مورچے کیوں بنے؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقات کا موضوع ہے اور وزیراعلیٰ کو اس کا جواب دینا ہوگا کہ صوبے میں امن کی صورتحال کیوں خراب ہے۔فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب وہ اپنے ہی ضلع کو سنبھال نہیں سکتے تو صوبے کو کیسے چلائیں گے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ نے اے پی سی اور علما کانفرنس بلائی، لیکن وہ اسلام آباد کو فتح کرنے کی بات کرتے ہیں، جب کہ اپنے صوبے میں 25 کلومیٹر کی سڑک بھی نہیں کھول سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے کسانوں پر ٹیکس لگایا ہے، جسے وہ قابل قبول نہیں سمجھتے اور اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر اصلاحات نہیں ہوئیں تو وہ دھرنا دے کر حکومت کو اس کی حقیقت بتائیں گے۔اس کے علاوہ، گورنر خیبر پختونخوا کو کرم متاثرین کے لیے رمضان پیکیج حکومت سندھ اور سندھ لوکل کونسل کی جانب سے حوالے کیا گیا۔