حقوق کے لیے آخری حد تک جائیں گے، مزاحمت کی گئی تو ذمہ داری مخالفین پر ہوگی، وزیر اعلیٰ کے پی

حقوق کے لیے آخری حد تک جائیں گے، مزاحمت کی گئی تو ذمہ داری مخالفین پر ہوگی، وزیر اعلیٰ کے پی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور، نے صوبے کے حقوق کے لیے آخری حد تک جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

 انہوں نے پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاقی حکومت سے 2,000 ارب روپے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حقوق کے حصول کے لیے مزاحمت کی گئی تو اس کے نتائج کی ذمہ داری مزاحمت کرنے والوں پر ہوگی۔علی امین گنڈاپور نے نشاندہی کی کہ فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی میں 57 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مزید وسائل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 سے 2024 تک ان علاقوں کی ترقی کے لیے 600 ارب روپے درکار تھے، لیکن اب تک صرف 132 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، رواں مالی سال میں فاٹا کے لیے کوئی فنڈز موصول نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے صوبائی حکومت کو خود اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت سے نئے این ایف سی ایوارڈ کے لیے مشاورت شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صوبے کے مالی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ رمضان المبارک کے بعد اس معاملے پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔