لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب اسمبلی میں جعلی بھرتیوں کے کیس میں نامزد سابق سیکرٹری رائے ممتاز احمد نے عبوری ضمانت کے لیے رجوع کر لیا۔
عدالت نے اینٹی کرپشن سے یکم مارچ کو ملزم کا ریکارڈ طلب کر لیا۔
عدالتی کارروائی:
جسٹس سلطان محمود نے ملزم رائے ممتاز احمد کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ملزم اپنے وکیل عامر سعید راں کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا۔پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبد الصمد عدالت میں پیش ہوئے۔
سرکاری مؤقف:
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبد الصمد نے مؤقف اختیار کیا کہ رائے ممتاز پنجاب اسمبلی میں جعلی بھرتیوں کے مقدمے میں ملوث ہے۔ملزم ایک سال تک اشتہاری رہا اور اب عبوری ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کر رہا ہے۔پراسیکیوشن کے مطابق، ملزم اس کمیٹی کا رکن تھا جس نے جعلی بھرتیاں کیں۔اسپیشل جج اینٹی کرپشن کی عدالت ملزم کو پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے، جس کے باعث اینٹی کرپشن کورٹ میں کیس کی سماعت رکی ہوئی ہے۔
عدالت کا مؤقف:
جسٹس سلطان محمود نے وکیل صفائی سے استفسار کیا:"پہلے یہ بتائیں کہ ملزم ایک سال تک اشتہاری کیوں رہا؟ اس کے بعد کیس کو آگے دیکھیں گے۔"وکیل صفائی نے مؤقف اپنایا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے، اس لیے تیاری کے لیے وقت دیا جائے۔
فیصلہ:
عدالت نے وکیل صفائی کی استدعا پر ملزم رائے ممتاز کی درخواست ضمانت پر مزید سماعت یکم مارچ تک ملتوی کر دی اور اینٹی کرپشن کو ملزم کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔