غیر قانونی بھرتیاں؛ مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کے گرد گھیرا تنگ، نیب اور ایف آئی اے متحرک

غیر قانونی بھرتیاں؛ مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کے گرد گھیرا تنگ، نیب اور ایف آئی اے متحرک

اسلام آباد: پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور بے ضابطگیوں کے معاملے پر سابق وفاقی وزیر اسعد محمود کے لیے قانونی مشکلات بڑھنے لگی ہیں۔

 قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے معاملے کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں، جبکہ دونوں اداروں کی جانب سے طلبی کے نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق نیب نے واضح کیا ہے کہ طلبی کے نوٹس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 31 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے ادارے نے متعلقہ شخص کو نوٹس کی تعمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔دوسری جانب ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلب کیا تھا۔ ایف آئی اے کی جانب سے 30 اکتوبر 2026ء کو جاری کیے گئے نوٹس میں انہیں 2 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ایف آئی اے نے انکوائری نمبر 197/2026 کے تحت پاکستان پوسٹ آفس میں بھرتیوں کے دوران مبینہ سنگین بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ انکوائری کا مقصد بھرتیوں کے عمل، تقرریوں کی منظوری اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی ممکنہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لینا ہے۔

منظور شدہ اسامیوں سے زائد بھرتیوں کی تحقیقات

تحقیقات کے دوران اہم سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا پاکستان پوسٹ آفس میں منظور شدہ اسامیوں سے زیادہ بھرتیاں کی گئیں اور اگر ایسا ہوا تو ان کی منظوری کس نے دی؟ اسی طرح ختم شدہ اسامیوں پر تقرریوں کی اجازت دینے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اس معاملے میں یہ جاننا اہم ہوگا کہ بھرتیوں کے لیے اختیار کس سطح پر استعمال کیا گیا، تقرریوں کی منظوری کس نے دی اور کیا تمام مراحل متعلقہ قوانین اور سرکاری ضابطوں کے مطابق مکمل کیے گئے تھے۔

نیب اور ایف آئی اے کی تحقیقات سے قانونی پیچیدگیاں بڑھنے کا امکان

ایک ہی معاملے پر دو احتسابی اور تحقیقاتی اداروں کی کارروائی کے باعث اسعد محمود کے لیے قانونی مشکلات بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دونوں ادارے اپنے دائرہ اختیار کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔