دسمبر کے ابتدائی ہفتے میں شام کے صدر بشار الاسد کے روس فرار ہونے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جو ان کے اقتدار کے خاتمے اور شام میں جنگ کے نیا موڑ کو ظاہر کرتی ہیں۔
بشار الاسد، جو 2000 سے شام کے صدر تھے، 7 دسمبر کو باغی گروپوں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ روس روانہ ہوگئے۔ ان کے اس اقدام کا مقصد اپنی جان بچانا اور شامی حکومت کے سقوط سے بچنا تھا۔
فرار کی تفصیلات:
زیر زمین سرنگ کا استعمال:
بشار الاسد نے اپنی حکومت کی گرتی ہوئی طاقت اور باغیوں کے دمشق میں داخل ہونے کے خطرے کے پیش نظر ایک خاص تدبیر اختیار کی۔ انھوں نے صدارتی محل سے ایک زیر زمین سرنگ کے ذریعے دمشق کے المزہ فوجی ہوائی اڈے تک رسائی حاصل کی۔ یہ سرنگ شام میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسد خاندان کو درپیش خطرات کے پیش نظر تیار کی گئی تھی۔
روس کی طرف فرار:
بشار الاسد نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ حمیمیم روسی فوجی اڈے کی طرف سفر کیا۔ روس کے اس فوجی اڈے تک پہنچنے کے بعد، وہ روس کے لیے روانہ ہوگئے۔ روسی اڈے تک پہنچنے کے وقت، بشار الاسد کے اہل خانہ کو مکمل طور پر یہ بھی علم نہیں تھا کہ ان کا سفر اتنی جلدی شروع ہوگا۔ اس فرار کی حالت عجلت میں تھی کیونکہ بشار الاسد کو آخر وقت تک اپنی شکست کا یقین نہیں تھا۔
فیصلہ اور منصوبہ بندی کی کمی:
بشار الاسد نے اس اہم موقع پر اپنے بھائی ماہر الاسد، جو شام کے فوجی فورتھ ڈویژن کے سربراہ تھے، کو بھی بے خبر رکھا۔ ماہر الاسد، جو حکومت میں ایک اہم شخص سمجھے جاتے تھے، دیر سے روس کے فوجی اڈے تک پہنچے اور پھر وہاں سے روس روانہ ہوئے۔ بشار الاسد کی اس عجلت میں کی جانے والی فرار نے یہ ثابت کیا کہ وہ آخر وقت تک اپنی حکومت کی بقا کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں مبتلا تھے۔
روسی مدد کا انکار:
بشار الاسد نے روس سے مدد کی درخواست کی تھی، مگر یوکرین جنگ میں مشغولیت کی وجہ سے روس نے شام کے لیے اضافی فوجی بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے باوجود، بشار الاسد کے فرار نے اس بات کو واضح کیا کہ روس اب شام کے معاملات میں مداخلت کم کر رہا ہے۔
قطری اجلاس کا اشارہ:
اس دوران، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں روس اور ایران کے سفارت کاروں کے ایک اجلاس میں یہ باور کرایا گیا کہ اب شام سے انخلا کا وقت آ چکا ہے۔ اس اجلاس کے بعد، بشار الاسد کی حکومت کی تقدیر مزید بدتر ہوگئی اور ان کے فرار کے بعد شامی حکومت کے قیام کا مستقبل غیر واضح ہو گیا۔
نتیجہ:
بشار الاسد کے فرار کا یہ واقعہ ان کے اقتدار کے خاتمے کا واضح اشارہ ہے۔ شام میں باغی گروہ اس وقت دمشق میں کامیاب پیش قدمی کر رہے تھے، اور بشار الاسد کی حکومت کی پوزیشن میں مزید کمزوری آئی۔ اس فرار نے اس بات کو مزید مضبوط کیا کہ شام میں جنگ اور سیاسی بحران نے اسد خاندان کو ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ان کے پاس اقتدار کی بقا کے لیے صرف روسی حمایت کا سہارا تھا، جو اب کم ہوتی جا رہی ہے۔